30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(جس چمڑے کو دباغت دی جائے پاك ہوجاتا ہے سوائے خنزیر اور آدمی کے چمڑے کے) (ان دونوں پر) اکتفاء کرنے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دباغت سے کتّے کا چمڑ اپاك ہوجاتا ہے اس میں صاحبین کا اختلاف ہے جیسا کہ زاہدی میں ہے۔ پہلا قول صحیح ہے جیسا کہ تحفہ میں ہے۔ (ت)
نور الایضاح اور اس کی شرح مراقی الفلاح میں ہے :
تنزح (بوقوع خنزیر ولوخرج حیاولم یصب فمہ الماء) لنجاسۃ عینہ (و) تنزح (بموت کلب) قید بموتہ فیھالانہ غیر نجس العین علی الصحیح [1]۔
خنزیر کے گرنے سے سارا پانی نکالا جائے اگرچہ زندہ نکلے اور اس کا منہ پانی تك نہ پہنا ہو کیونکہ وہ نجس عین ہے ، اور کتّے کے مرنے سے تمام پانی نکالا جائے ، اس کے ساتھ موت کی قید اس لئے لگائی ہے کہ صحیح قول کے مطابق یہ نجس عین نہیں ہے۔ (ت)
علامہ احمد مصری اس کے حاشیہ(۲۰) میں فرماتے ہیں :
ھو قول الامام رضی الله تعالٰی عنہ وعندھما نجس العین کالخنزیر والفتوٰی علی قول الامام وان رجح قولھما کمافی الدرعن ابن الشحنۃ[2]۔
امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا یہی قول ہے جبکہ صاحبین کے نزدیك یہ خنزیر کی طرح نجس عین ہے ، فتوٰی امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے قول پر ہے اگرچہ صاحبین کے قول کو ترجیح دی گئی ہے جیسا کہ درمختار میں ابن الشحنہ سے منقول ہے۔ (ت)
علّامہ محقق محمد محمد محمد ابن امیر الحاج حلیہ۲۱ میں فرماتے ہیں :
کون الکلب لیس بنجس العین ھو المرجح۔
کتّے کے نجس عین نہ ہونے کو ترجیح حاصل ہے۔ (ت)
اُسی میں ہے :
قدسلف مرارا انہ القول الراجح [3]۔
بارہا گزرچکا ہے کہ اسی قول کو ترجیح ہے۔ (ت)
یہی قول امام صدر۲۶ شہید کا مختار ہے ،
کمافی الطحطاوی علی الدر وفی الحلیۃ عن الذخیرۃ عن شرح الطحاوی ان الکلب لیس بنجس العین [4]وھو اختیار الصدر الشھید۔
جیسا کہ درمختار کی شرح طحطاوی میں اور حلیہ میں ذخیرہ کے حوالے سے شرح طحاوی سے منقول ہے کہ کُتّا نجسِ عین نہیں ہے صدر الشہید کا مختار قول بھی یہی ہے۔ (ت)
اُسی میں تحفہ۲۳ الفقہاء امام علاء الدین سمرقندی ومحیط۲۴ امام رضی الدین وبدائع امام۲۵ العلماء ابوبکر مسعود کاشانی رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیسے ہے :
الصحیح انہ لیس بنجس العین[5]۔
صحیح بات یہ ہے کہ یہ نجس عین نہیں ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
وفی موضع آخر من البدائع وھذا اقرب القولین الی الصواب انتھی ومشی علیہ غیر واحد من المشایخ [6]۔
بدائع میں دوسرے مقام پر ہے کہ یہ قول صحت کے زیادہ قریب ہے اھ اکثر مشائخ نے یہی راہ اختیار کی ہے۔ (ت)
علامہ ابراہیم حلبی غنیہ۲۶ شرح منیہ میں فرماتے ہیں :
الذی تقتضیہ الدرایۃ عدم نجاسۃ عینہ لماقال صاحب الھدایۃ ولعدم الدلیل علی نجاسۃ العین والاصل عدمھا والدلیل الدال علی نجاسۃ سؤرہ لایقتضی نجاسۃ عینہ [7]۔
درایت کا تقاضہ یہ ہے کہ اس کا عین ناپاك نہیں جیسا کہ صاحب ہدایہ نے فرمایا نیز اس کے نجس ہونے پر کوئی دلیل نہیں اور اصل چیز عدم ہے اور وہ دلیل جو اس کے جھُوٹے کے ناپاك ہونے پر دلالت کرتی ہے وہ اس کے نجس ہونے کی مقتضی نہیں ہے۔ (ت)
صغیری۲۷ میں فرمایا :
جروالکلب اذاجلس علیہ بنفسہ فعلی الروایۃ الصحیحۃ ینبغی ان تجوز صلاتہ لانہ غیر حاصل للنجاسۃ[8] اھ ملخصا۔
اگر اس (نمازی) پر کتے کا بچہ خود بخود بیٹھ جائے تو صحیح روایت کے مطابق مناسب ہے کہ اس کی نماز جائز ہو کیونکہ وہ نجاست اٹھائے ہوئے نہیں ہے اھ ملخصا (ت)
علامہ شرنبلالی تیسیر۲۸ المقاصد شرح نظم الفرائد میں فرماتے ہیں :
الکلب لیس نجس العین فی الاصح [9]۔
[1] مراقی الفلاح علی حاشیۃ الطحاوی فصل فی مسائل الاٰبار نور محمد کارخانہ کراچی ص۲۱
[2] حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی فصل فی مسائل الآبار نور محمد کارخانہ کراچی ص۲۱
[3] حلیہ ابن امیر الحاج
[4] حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار باب المیاہ مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت ۱ / ۱۱۴
[5] بدائع الصنائع فصل فی طہارۃ الحقیقیۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۳
[6] بدائع الصنائع فصل اما بیان المقدار الذی الخ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۴
[7] غنیۃ المستملی فصل فے البئر مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۵۹
[8] صغیری شرح منیۃ المصلی فصل فی الآسار مطبوعہ مجتبائی دہلی ص۱۰۷
[9] تيسر المقاصد شرح نظم الفرائد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع