دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 4 | فتاوی رضویہ جلد ۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۴

نبی کریم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو ایك قوم نے دعوت دی ، آپ نے قبول کرلی۔ اور آپ کو دوسروں کے گھر میں بلایا گیا تو آپ نے قبول نہ کیا ، اس بارے میں آپ سے عرض کیا گیا۔ آپ نے فرمایا کہ فلاں کے گھر میں کتّا ہے۔ عرض کیا گیا اور فلاں کے گھر میں بلّی ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا : بلّی ناپاك نہیں اور وہ تمہارے پاس آنے جانے والے (غلاموں) اور آنے جانے والی (لونڈیوں) کی طرح ہے۔ (ت)

وتمسکا باقوال بعض علمائنا الحنفیۃ کو ازانجملہ ایك یہ ہے جو مبسوط میں ہے :

الصحیح من المذھب عندنا ان الکلب نجس [1]۔

ہمارے نزدیك صحیح مذہب یہ ہے کہ کتا ناپاك ہے۔ (ت)

اور دوسرا یہ جو ابو المکارم کی شرح نقایہ میں ہے :

فی فتاوٰی قاضی خان مایدل علی ان الکلب نجس العین وفی موضع آخر مایدل علی انہ لیس کذلك وسمعت ان الروایۃ الصحیحۃ عندنا ھو الاول [2] ۔

فتاوی قاضی خان میں ایسی بات ہے جو کتّے کے نجسِ عین ہونے پر دلالت کرتی ہے اور (اسی میں) دوسری جگہ وہ بات ہے جس میں ایسا نہ ہونے پر دلالت ہے اور میں نے سنا کہ ہمارے نزدیك صحیح روایت ، پہلی ہے (یعنی نجسِ عین)۔ (ت)

اور تیسرا یہ جو شرح وقایہ وغیرہ بعض کتبِ فقہ میں ہے :

اذاسد کلب عرض النھر ویجری الماء فوقہ انکان مایلاقی الکلب اقل ممالایلاقیہ یجوز الوضوء فی الاسفل والالا[3]۔

اگر کتّا نہرکی چوڑائی بند کردے اور پانی اس کے اوپر سے جاری ہو تو اگر کتّے سے ملا ہوا پانی اس سے کم ہے جو اس (کے جسم) سے ملا ہوا نہیں ہے تو (نہر کی) نچلی جانب سے وضو کرنا جائز ہے ورنہ نہیں۔ (ت)

کہتا ہے کہ کتّا نجس العین ہے اور زید عمرو کے ان دلائل میں سے احادیث امر بقتل کلاب اور احادیث عدم دخول ملائکہ اور احادیث امر بغسل اناء کا توجواب یہ دیتا ہے کہ ان سب حدیثوں کے نجاست کلب پر دلالت کرنے میں ضُعف ہے۔ احادیث امر بقتل کلاب کے دلالت کرنے میں تو اس وجہ سے کہ یہ امر ان کی نجاست کے سبب نہ تھا بلکہ ملائکہ کے اُس گھر میں جس میں کتّا ہو نہ داخل ہونے کی وجہ سے تھا جیسا کہ امر مذکور ہی کی احادیث سے مفہوم ہوتا ہے اور اگر ہم تسلیم بھی کرلیں تو اس کا نسخ وارد ہوچکا ہے اور احادیث عدم دخول ملائکہ کے دلالت کرنے میں اس وجہ سے کہ امتناعِ ملائکہ کا باعث کلب کی نجاست ہی نہیں متعین ہوسکتی بلکہ ممکن ہے کہ کوئی اور امر ہو۔

قال العلامۃ الدمیری فی حیٰوۃ الحیوان قال العلماء سبب امتناعھم من البیت الذی فیہ الکلب کثرۃ اکلہ النجاسات وبعض الکلاب یسمی شیطانا والملائکۃ

علامہ دمیری نے حیٰوۃ الحیوان میں فرمایا کہ علماء فرماتے ہیں جس گھر میں کتّا ہو اس میں فرشتوں کے نہ آنے کا باعث کتّوں کا بکثرت نجاست کھانا ہے ، اور بعض کتوں کو تو شیطان کہا جاتا ہے اور فرشتے شیطان

ضد الشیاطین ولقبح رائحۃ الکلب والملٰئکۃ تکرہ والرائحۃ الخبیثۃ ولانھا منھی عن اتخاذھا فعوقب متخذھا بحرمانہ دخول الملٰئکۃ بیتہ[4]۔

کی ضد میں ، نیز کتا بدبودار ہوتا ہے اور فرشتے بدبُو کو پسند نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ کتا رکھنے سے منع کیا گیا پس اسے رکھنے والے کو یوں سزا دی گئی کہ اس کے گھر میں فرشتوں کا داخلہ نہیں ہوتا۔ (ت)

اور نظیر اس کی وہ حدیث ہے جس کو امام مالك اور بخاری اور مسلم نے حضرت عائشہ سے مرفوعًا اخراج کیا ہے کہ جس گھر میں تصویریں ہوتی ہیں اس میں فرشتے نہیں داخل ہوتے اور نیز وہ حدیث ہے جس کو امام مالك اور احمد اور ترمذی اور ابن حبان نے ابوسعید سے مرفوعًا اخراج کیا ہے کہ جس گر میں تماثیل یا صورت ہوتی ہیں اُس میں فرشتے نہیں آتے اور نیز وہ حدیث جس کو بغوی اور طبرانی اور ابونعیم نے معرفۃ میں اور ابن قانع نے سوط بن غزی سے مرفوعًا اخراج کیا ہے کہ ملائکہ اس قافلہ کے ساتھ نہیں ہوتے جس میں گھنٹا ہوتا ہے اور نیز وہ حدیث ہے جس کو طبرانی نے حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مرفوعًا اخراج کیا ہے کہ ملائکہ جنب اور متضمخ بخلوق [5] پر اُن کے غسل کرنے تك حاضر نہیں ہوتے۔

 اور نیز وہ حدیث ہے جس کو احمد اور ابوداؤد نے عمار سے مرفوعًا اخراج کیا ہے کہ ملائکہ جنازہ کافر پر خیر سے اور متضمخ بزعفران اور جنب پر نہیں حاضر ہوتے تو جیسا کہ ان حدیثوں سے نجاست تصویر اور جنازہ کافر اور متضمخ بزعفران وغیر ذلك پر استدلال کرنا غیر ممکن ہے ایسا ہی احادیث عدم دخول ملائکہ سے نجاست کلب پر تمسك کرنا ناجائز اور احادیث امر بغسل اناء کے دلالت کرنے میں تو ضعف کا ہونا ظاہر ہے ، ہاں نجاست لعابِ کلب پر یہ حدیثیں البتہ دال ہیں نہ اُس کے عین کی نجاست پر۔ اور حدیث ابی ہریرہ کا جواب اوّلًا تو یہ دیتا ہے کہ مولٰنا الہداد جونپوری نے حاشیہ ہدایہ میں اور دمیری نے حیوٰۃ الحیوان میں نقل کیا ہے اور کہا ہے یعنی دمیری نے کہ اس حدیث کو امام احمد اور دارقطنی اور حاکم اور بیہقی نے حدیث ابی ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کیا ہے لیکن میں نے جو سنن دارقطنی اور مستدرك حاکم کی طرف مراجعت کی تو میں نے ان دونوں میں اس حدیث کو اس لفظ سے نہیں پایا بلکہ لفظ

کان رسول الله  صلی الله  تعالٰی علیہ وسلم یاتی دارقوم من الانصار ودونھم دارفیشق ذلك علیھم فقالوا یارسول الله  تاتی دارفلان ولاتاتی دارنا فقال

رسول اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  چند انصار کے گھروں میں تشریف لاتے تھے ان میں سے نیچے کی جانب ایك گھر تھا ان پر یہ بات گراں گزری تو انہوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! آپ فلاں

رسول الله  صلی الله  علیہ وسلم لان فے دارکم کلبا قالوا فان فی دارھم سنورا فقال النبی السنور سبع [6]۔

کے گھر تشریف لاتے ہیں اور ہمارے گھر تشریف نہیں لاتے۔ رسول اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا اس لئے کہ تمہارے گھر کتا ہے۔ انہوں نے عرض کیا تو ان (فلاں کے)  گھر بلّی ہے۔ رسول اکرم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : بلّی ایك درندہ ہے۔ (ت)

کے ساتھ پایا تو اول تو اصح اس کا وقف ہے اور دوسرے اسناد اس کی قوی نہیں۔

قال الحافظ ابن حجر فی التلخیص بعدذکر الحدیث قال ابن ابی حاتم فی العلل سألت ابازرعۃ عنہ فقال لم یرفعہ ابونعیم وھو اصح وعیسی عــہ لیس بالقوی قال العقیلی لایتابعہ علی ھذا الحدیث الامن ھو مثلہ اودونہ وقال ابن حبان خرج عیسی عن حدالاحتجاج ولما ذکرہ الحاکم قال ھذا الحدیث صحیح تفرد بہ عیسی عن ابی زرعۃ وھو صدوق لم یجرح قط ھکذا قال وقدضعفہ ابوحاتم وابوداود وغیرھا وقال ابن الجوزی لایصح [7] انتھی ملخصا۔                      

حافظ ابن حجر (عسقلانی) نے تلخیص میں یہ حدیث ذکر کرنے کے بعد فرمایا ابن ابی حاتم نے عللِ میں فرمایا کہ میں نے اس حدیث کے بارے میں ابوزرعہ سے پُوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ابونعیم نے اسے مرفوع ذکر نہیں کیا اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ اور عیسٰی (راوی) قوی نہیں۔ عقیلی نے فرمایا اس حدیث میں ان کی متابعت وہی کرے گا جو اس کی مثل یا اس سے کم (درجہ میں) ہو۔ ابنِ حبان نے کہا : عیسٰی حجت کی حد سے نکل گیا (یعنی اس کی بات کو دلیل نہیں بناسکتے) اور حاکم نے اس حدیث کا ذکر کرتے ہوئے کہا یہ حدیث صحیح ہے اس کو ابو زرعہ سے روایت کرنے میں عیسٰی متفرد ہیں اور وہ سچّے ہیں ان پر کبھی جرح نہیں ہُوئی ، انہوں نے اسی طرح کہا ، (لیکن) ابوحاتم اور ابوداؤد کے علاوہ دوسروں نے اسے ضعیف قرار دیا ، اور ابن جوزی نے کہا یہ صحیح نہیں انتہی ملخصا (ت)

 



[1]   المبسوط للسرخسی سؤرمالایوکل لحمہ مطبوعہ دار المعرفت بیروت ۱ / ۴۸

[2]   شرح النقایۃ لابی المکارم

[3]   شرح الوقایۃ بیان مایجوز بہ الوضوء المکتبۃ الرشیدیہ دہلی ۱ / ۸۴

[4] حیٰوۃ الحیوان الکبرٰی ، زیر لفظ الکلب ، مصطفی البابی حلبی مصر ، ۲ / ۲۹۰

[5] خلوق (ایك خاص قسم کی خوشبو) لگانے والا۔ 

[6]   مسند امام احمد بن حنبل عن ابی ہریرۃ ، مطبوعہ دار الفکر بیروت ، ۲ / ۳۲۷

[7]   التلخیص الجیر فی تخریج احادیث الرافعی الکبیر باب بیان النجاسات المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل ۱ / ۲۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن