30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور دسواں یہ جو شامی میں ہے :
فمعنی القول بطھارۃ عینہ طھارۃ ذاتہ
اس کے طاہر عین ہونے کے قول کا مطلب یہ ہے کہ یہ جب تک
مادام حیا وطھارۃ جلدہ بالدّباغ والذکاۃ وطھارۃ مالا تحلہ الحیوۃ من اجزائہ کغیرہ من السباع [1]۔
زندہ ہے ذاتی طور پر پاك ہے۔ اس کا چمڑا دباغت یا ذبح (شرعی) کے ساتھ پاك ہوجاتا ہے نیز اس کے جن اجزاء میں زندگی سرایت نہیں کرتی دوسرے درندوں کی طرح وہ بھی پاك ہیں۔ (ت)
اور گیارھواں یہ جو سعایہ میں ہے :
قلت لم یتضح لی الی الاٰن دلیل علی کونہ نجس العین ودلائل المثبتین کلھا مخدوشۃ [2]۔
میں کہتا ہوں اب تك مجھے اس کے نجس عین ہونے پر کوئی واضح دلیل نہیں ملی ، نجس ثابت کرنے والوں کے تمام دلائل کمزور ہیں۔ (ت)
اور بارھواں وہ جو مولوی عبدالحی لکھنوی نے تعلیق ممجد میں بعد ذکر ان حدیثوں کے جو کہ طہارت اُہُب پر دباغت سے مطلقًا دلالت کرتی ہیں کہا ہے :
وبھذہ الاحادیث ونظائرھا ذھب الجمہور الی الطھارۃ بالدباغۃ مطلقا الا انھم استثنوا من ذلك جلد الانسان لکرامتہ وجلد الخنزیر لنجاسۃ عینہ واستثنی ایضا جلد الکلب من ذھب الی کونہ نجس العین وھو قول جمع من الحنفیۃ وغیرھم ولم یدل علی دلیل قوی بعد [3]۔
ان احادیث اور ان کی مثل پر بنیاد رکھتے ہوئے جمہور فقہاء نے دباغت کے ذریعے مطلقًا طہارت کی راہ اختیار کی ہے مگر انہوں نے اس سے انسان کے چمڑے کو اس کی عزّت کی بنیاد پر اور خنزیر کے چمڑے کو اس کے نجس عین ہونے کی وجہ سے مستشنٰی قرار دیا ہے اور جو لوگ کتّے کو نجسِ عین سمجھتے ہیں انہوں نے اس کو بھی مستشنٰی کیا ہے احناف کی ایك جماعت اور ان کے علاوہ فقہاء کرام کا یہی قول ہے لیکن ابھی تك اس پر کوئی مضبوط دلیل نہیں پائی گئی۔ (ت)
اور تیرھواں یہ جو فتح القدیر میں ہے :
اختلف المشایخ فی التصحیح والذی یقتضیہ
تصحیح میں علماءکا اختلاف ہے اور “ ایما اھاب “
عموم ایما اھاب طھارۃ عینہ ولم یعارضہ مایوجب نجاستھا فوجب حقیقۃ عدم نجاستھا [4]۔
(جو بھی چمڑا) کا عموم طہارت عین کا مقتضی ہے اور اس کے مقابلے میں نجاست کو واجب کرنے والی کوئی دلیل موجود نہیں لہذا ضروری ہوا کہ اس کا نجس نہ ہونا حق ہوا۔ (ت)
کہتا ہے کہ کُتّا طاہر العین ہے اور کہتا ہے کہ آیت میں تو وجہ دلالت کی یہ ہے کہ یہ آیت بلاضرورت کتّے سے ازروئے اصطیاد کے جواز انتفاع پر بلکہ بجز کھانے کے اور اُس سے سب طرح کے فائدے اُٹھانے کے جواز پر دلالت کرتی ہے ، قرطبی نے کہا ہے :
وقدذکر بعض من صنف فی احکام القراٰن ان الایۃ تدل علی ان الاباحۃ تناولت ماعلمنا الجوارح وھو ینظم الکلب وسائر جوارح الطیر وذلك یوجب اباحۃ سائر وجوہ الانتفاع فدل علی جواز بیع الکلب والجوارح والانتفاع بھابسائر وجوہ المنافع الاماخصہ الدلیل وھو الاکل من الجوارح ای الکواسب من الکلاب وسباع الطیر [5]۔
احکامِ قرآن کے بعض مصنفین نے ذکر کیا ہے کہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اباحت ان تمام شکاری جانوروں کو شامل ہے جن کو ہم سکھائیں اور اس میں کتّا اور تمام شکاری پرندے بھی شامل ہیں اور یہ (جواز) انتفاع کے تمام طریقوں کی اباحت کو واجب کرتا ہے پس یہ کتّے اور (دیگر) شکاری جانوروں کو بیچنے اور ان سے ہر طرح کا نفع حاصل کرنے پر دلالت کرتا ہے مگر جس کو دلیل نے خاص کرلیا ہو ، اور وہ شکاری جانوروں یعنی کسب کرنے والے کتّوں اور درندوں کو کھانا ہے (اور یہ جائز نہیں)۔ (ت)
اور کسی چیز سے بلاضرورت انتفاع کا جائز ہونا اُس چیز کے عدمِ نجاست کی علامت ہے تو اس نے اُس کے عدمِ نجاست پر بھی دلالت کی کماھو ظاھر (جیسا کہ وہ ظاہر ہے۔ ت)
اور حدیث ابن عمر میں یہ کہ موسم گرمی میں اکثر اوقات کُتّے کیچڑ میں بھرئے ہوئے پانی میں بھیگے ہوئے مسجد میں آتے جاتے ہوں گے اور کیچڑ پانی مسجد میں گرتا ٹپکتا ہوگا تو جبکہ باوجود اس کے رش بھی نہ ثابت ہوا تو ان کے اجسام اور اعیان کے عدم نجاست ثابت ہُوئی۔
اور احادیث اذن فی اقتناء الکلب (کتّا رکھنے کی اجازت سے متعلق احادیث۔ ت) کی دلالت کی نسبت مولوی عبدالحی نے سعایہ میں کہا ہے :
نعم لھا دلالۃ علی طھارۃ جسمہ وعدم تنجس عینہ البتۃ فان الاذن فی اقتنائہ دال علی انہ لیس ینجس العین [6]۔
ہاں اس کے جسم کے پاك ہونے اور نجس عین نہ ہونے پر یقینا دلیل ہے کیوں کہ اسے رکھنے کی اجازت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ نجس عین نہیں۔ (ت)
اور باقی حدیثوں میں وجہ دلالت کی ظاہر ہے اور عمرو استدلالًا باحادیث الامر بقتل الکلاب (کتوں کو ہلاك کرنے کے حکم سے متعلق احادیث سے استدلال کرتے ہوئے۔ ت) واحادیث عدم دخول الملٰئکۃ بیتافیہ کلب (جس گھر میں کتّا ہو اس میں فرشتوں کے داخل نہ ہونے کے بارے میں احادیث۔ ت) واحادیث الامر بغسل الاناء من دلوغ الکلب سبعا اوثمانیا اوثلثا واھراق مافضل من شربہ (کتّے کے چاٹنے سے برتن کو سات یا آٹھ یا تین بار دھونے اور اس کے پینے سے جو بچ جائے اسے بہادینے کے بارے میں احادیث۔ ت)وحدیث ابی ھریرۃ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ:
ان النبی دعی الی دار قوم فاجاب ودعی ای دار اٰخرین فلم یجب فقیل لہ فی ذلك فقال ان فی دار فلاں کلبا فقیل لہ وان فی دار فلان ھرۃ فقال الھرۃ لیست بنجسۃ انما ھی الطوافین علیکم والطوافات [7]۔
[1] ردالمحتار قبیل فصل فی البئر مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۳۹
[2] السعایۃ فی کشف مافی شرح الوقایۃ من احکام الدباغۃ سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۴۰۹
[3] تعلیق ممجد لعبد الحی اللکھنوی
[4] فتح القدیر باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء الخ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۸۳
[5] الجامع لاحکام القرآن زیر آیہ وماعلمتم من الجوارح الخ دار احیاء التراث العربی بیروت ۶ / ۶۶
[6] السعایۃ فی کشف مافی شرح الوقایۃ احکام الاٰسار سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۴۴۶
[7] التلخیص الجیر فی تخریج احادیث الرافعی الکبیر ، اب بیان النجاسات ، المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل ، ۱ / ۲۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع