30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہی وہ تحقیق ہے جس پر ہم نے اعتماد کیا کیونکہ اس کا سبب ظاہر ہے اور اس میں زیادہ احتیاط ہے اگرچہ اس مسئلہ میں کلام کا دامن نہایت طویل ہے جس میں سے کچھ ردالمحتار میں باب الانجاس اور کتاب ردالمحتار کے آخر میں مذکور ہے۔ اور اس میں البرہان سے نقل کرتے ہوئے کہا کہ اس بات میں کوئی خفا نہیں کہ اس کے محض رطوبت ہونے کا یقین نہیں کیا جاسکتا مگر جب کہ تر نجاست کے نچوڑنے سے قطرے نہ نکلیں کیوں کہ ممکن ہے کہ خشك کپڑے کو بہت سی نجاست لگے اور نچوڑنے سے اس سے کچھ نہ نِکلے جیسا کہ اسے دھونے کا آغاز کرتے وقت مشاہدہ ہوتا ہے۔ الخ اسی (ردالمحتار) میں امام زیلعی سے نقل کیا کہ جب نچوڑنے سے قطرے نہ نکلیں تو اس سے کچھ بھی جُدا نہ ہوگا اور اس سے ملنے والی چیز محض مجاورت (ملنے) سے تر ہوگی اور اس سے وہ ناپاك نہیں ہوتی۔
لکن لم یظھر اثر طبل الارض فی رجلہ فصلی جازت صلاتہ وان کان بلل الماء فی رجلہ کثیرا حتی ابتل وجہ الارض وصارطینا ثم اصاب الطین رجلہ لاتجوز صلاتہ [1]الخ والله سبحنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
اور اسی (ردالمحتار) میں خانیہ سے نقل کیا ہے کہ اگر کوئی شخص پاؤں دھوکر جُوتے کے بغیر ناپاك زمین پر چلا اور اس کے پاؤں کی رطوبت سے زمین تر ہوگئی اور زمین پر نشان لگ گیا لیکن زمین کی رطوبت اس کے پاؤں میں ظاہر نہیں ہوئی اب اس نے نماز پڑھی تو اس کی نماز جائز ہے اور اگر پاؤں میں پانی کی رطوبت زیادہ تھی حتی کہ زمین کا ظاہر تر ہوگیا اور کیچڑ پاؤں میں لگ گیا تو اس کی نماز جائز نہیں الخ والله سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ (ت)
مسئلہ ۱۷۶ : از کلکتہ دھرم تلا نمبر۶ مرسلہ جناب مرزا غلام قادر بیگ صاحب ۹ ذیقعد ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر پکی ہوئی کھچڑی یا چاول میں یا چُونے میں چُوہے کی مینگنی نکلے تو کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا۔
الجواب :
چُوہے کی مینگنی اگر چاول کھچڑی روٹی وغیرہ کھانے کی چیزوں میں نکلے تو اسے پھینك کر وہ اشیا کھالی جائیں بشرطیکہ اس کا رنگ یا بُو یا مزہ ان میں نہ آگیا ہو اور اگر چُونے میں نکلے اور وہ چونا جما ہوا ہے تو اس کے قریب کا پھینك کر باقی کھالیں اور بہتا ہوا ہے تو اس سب سے احتراز کریں والله تعالٰی اعلم۔
_____________________
رسالہ
سلب الثلب عن القائلین بطھارۃ الکلب ۱۳۱۲ھ
کتّے کی طہارتِ عین کے قائلین سے عیب دُور کرنے کا بیان
مسئلہ ۱۷۷ : از بنارس محلہ پترکنڈہ مرسلہ مولوی عبدالحمید صاحب ۸ رجب ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ابقاھم الله تعالٰی الٰی یوم الدین اس میں کہ زید تو مستندًا بقولہ تعالٰی یَسْــٴَـلُوْنَكَ مَا ذَاۤ اُحِلَّ لَهُمْؕ-[2]الآیۃ(اور وہ آپ سے پوچھتے ہیں ان کے لئے کیا حلال ہے۔ ت)ومتمسکا باحادیث الامر باکل صید قتلہ الکلب المعلم المرسل ولم یاکل منہ (اور ان احادیث کو دلیل بناتے ہوئے جن میں ایسے شکار کے کھانے کا حکم ہے جسے سکھائے ہوئے اور چوڑھے ہُوئے کتّے نے شکار کیا لیکن اس سے کچھ نہیں کھایا۔ ت) کہ از انجملہ ایك یہ حدیث عدی بن حاتم ہے :
قال قلت یارسول الله انانرسل الکلاب المعلمۃ قال کل ماامسکن علیك قلت
فرماتے ہیں میں نے عرض کیا “ یارسول اللہ ! ہم سکھائے ہوئے کتّوں کو (شکار پر) چھوڑتے ہیںان قتلن قال وان قتلن [3] الحدیث۔
(اس کا کیا حکم ہے؟) آپ نے فرمایا : “ جو کچھ وہ تمہارے لئے روك رکھیں اسے کھاؤ “ ۔ میں نے عرض کیا “ اگرچہ وہ اسے ہلاك کردیں؟ “ فرمایا : “ اگرچہ وہ اسے ہلاك کردیں “ الحدیث (ت)
اور احادیث الاذن فی اقتناء کلب ماشیۃ وصید وزرع وغنم (جانوروں کی حفاظت ، شکار ، کھیتی اور بکریوں کی حفاظت کیلئے کتّا رکھنے کی اجازت کے بارے میں احادیث۔ ت) کہ از انجملہ ایك یہ حدیثِ عبداللہ بن مغفل ہے :
قال انی لمن یرفع اغصان الشجرۃ عن وجہ رسول الله وھو یخطب فقال لولا ان الکلاب امۃ من الامام لامرت بقتلھا فاقتلوا کل اسود وبھیم ومامن اھل بیت یرتبطون کلبًا الا نقص من عملھم کل یوم قیراط الاکلب صیدا وکلب حرث اوکلب غنم [4]۔
آپ فرماتے ہیں مَیں ان لوگوں میں سے ہُوں جو نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے چہرہ انور کے آگے سے ٹہنیاں اٹھارہے تھے جب آپ خطبہ ارشاد فرمارہے تھے ، آپ نے فرمایا : اگر کتّے ایك مخلوق نہ ہوتے تو میں ان کو قتل کرنے کا حکم دیتا پس ہر سیاہ کتّے کو ماردو ، اور جو لوگ گھروں میں کتا رکھتے ہیں ان کے عمل سے روزانہ ایك قیراط کم ہوتا ہے مگر شکار کا کُتّا ، کھتیی کی حفاظت اور بکریوں کی حفاظت کے لئے کُتّا (اس سے مشتشنٰی ہے)۔ (ت)
واحادیث الترخیص فی ثمن کلب الصعید (شکاری کتّے کہ حصولِ قیمت کے بارے میں آپکی اجازت سے متعلق احادیث۔ ت) کہ از انجملہ ایك وہ حدیث ہے جس کو ہمارے امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اپنی مسند میں ہیثم سے وہ عکرمہ سے وہ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں :
قال رخص رسول الله فی ثمن کلب الصید[5]۔
فرماتے ہیں رسول اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے شکاری کتّے کی قیمت لینے کی اجازت فرمائی ہے۔ (ت)
وحدیث ابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا :
کانت الکلاب تقبل وتدبر فی عھد رسول الله
رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے عہد مبارك میں
[1] ردالمحتار مسائل شتّی مصطفی البابی مصر ۵ / ۵۱۸
[2] القرآن ۵ / ۴
[3] جامع الترمذی باب مایؤکل من صید الکلب مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۷۷
[4] جامع الترمذی باب من امسك کلباً ماینقص من اجرہ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۸۰
[5] مسند امام اعظم ابوحنیفہ کتاب البیوع نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۶۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع