30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
البتہ اگر مرغیوں کو اُبلتے ہوئے پانی میں اتنا وقت رکھیں کہ پانی کے جوش اور اس میں ٹھہرنے کی وجہ سے اندر کی نجاست گوشت کی گہرائیوں میں سرایت کرجائے تو اس وقت مفتٰی بہ قول کے مطابق وہ مردار ہوجائیں گی ، کیونکہ اسے کسی طریقے سے بھی پاك اور حلال نہیں کیا جاسکتا۔ (ت)
امام محقق علی الاطلاق سیدی کمال الملۃ دالدین محمد بن الہمام قدسنا اللہتعالٰی بسرہ الکریم درفتح القدیر فرماید :
لوالقیت دجاجۃ حالۃ الغلیان فی الماء قبل ان یشق بطنھا لنتف اوکرش قبل الغسل لایطھر ابدا لکن علی قول ابی یوسف یجب ان یطھر علی قانون ماتقدم فی اللحم۔
قلت وھو سبحٰنہ اعلم ھو معلل بتشربھا النجاسۃ المتخللۃ فی اللحم بواسطۃ الغلیان وعلی ھذا اشتھران اللحم السمیط بمصر نجس لایطھر لکن العلۃ المذکورۃ لاتثبت حتی یصل الماء الی حد الغلیان ویمکث فیہ اللحم بعد ذلك زمانا یقع فی مثلہ التشرب والدخول فی باطن اللحم وکل من الامرین غیر متحقق فی السمیط الواقع حیث لایصل الماء الی حد الغلیان ولایترك فیہ الامقدار ماتصل الحرارۃ الی سطح الجلد فتنحل مسام السطح عن الصوف بل ذلك الترك یمنع من جودۃ انقلاع الشعر فالاولی فی السمیط ان یطھر بالغسل ثلثا لتنجس سطح الجلد بذلك الماء فانھم لایتحرسون فیہ عن المنجس۔ وقدقال شرف الائمۃ
محقق علی الاطلاق ، دین وملت میں کامل ، سیدی امام محمد بن ہمام ، اللہتعالٰی ان کی ذاتِ والا صفات سے ہمیں برکت عطا فرمائے ، فتح القدیر میں فرماتے ہیں : اگر تم مرغی کے پیٹ کو چاك کرنے سے پہلے اسے دھوئے بغیر پَر اُکھاڑنے کے لئے اُبلتے ہوئے پانی میں ڈال دی تو وہ کبھی بھی پاك نہ ہوگی البتہ امام ابویوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے قول پر گوشت کے بارے میں جو قانون گزر چکا ہے اس کا پاك ہونا ثابت ہے۔ (ت)
قلت وھوسبحنہ اعلم اس مذکور بالا قول کی علّت یہ ہے کہ پانی کے جوش کے باعث وہ نجاست گوشت کے اندر جذب ہوجاتی ہے ، اسی بنیاد پر مشہور ہے کہ مصر میں سمیط (بکری کا بچہ جس کے بال صاف کرکے اسے بھُون لیا جائے) کا گوشت ناپاك شمار ہوتا ہے وہ پاك نہیں ہوتا ، لیکن یہ علت اس وقت تك ثابت نہیں ہوتی جب تك پانی جوش کی حد کو نہ پہنچ جائے اور اس کے بعد اس میں گوشت اتنی دیر تك نہ ٹھہرا رہے جس سے پانی گوشت کے اندر داخل ہوکر جذب ہوجائے۔ اور سمیط میں یہ دونوں باتیں نہیں پائی جاتیں کیونکہ نہ تو پانی جوش کی حد کو پہنچتا ہے اور نہ ہی اسے اس میں اتنی دیر چھوڑا جاتا ہے کہ حرارت ، جِلد کی سطح کے نیچے پہنچ جائے اور بالوں کے نیچے مساموں میں داخل ہوجائے بلکہ اس کو اس قدر (پانی میں) چھوڑنا اچھی طرح بال اکھاڑنے سے بھی مانع ہے پس سمیط کے بارے میں بہترین بات یہ ہے کہ چونکہ اِس نجس پانی سے جِلد کا ظاہر ناپاك ہوگیا لہذا تین بار
بھذا فی الدجاجۃ والکرش والسمیط مثلھما [1]اھ۔
وقال قدس سرہ قبل ذلك ناقلا عن التجنیس طبخت الحنطۃ فی الخمر قال ابویوسف تطبخ ثلثا بالماء وتجفف کل مرۃ وکذا اللحم وقال ابوحنیفۃ لاتطھر ابدا وبہ یفتی اھ قال والکل عند محمد لاتطھر ابدا [2]۔
وازینجا بوضوح پیوست کہ ہرکہ ایں کارخواہدا ولے واحوط درحقش آنست کہ اولًا ماکیان راشکم چاك وازامعا پاك کندوخون مسفوح کہ بمحل ذبح منجمد مے شود شوید پس ازاں بہرآبے کہ خواہد تہدتا ازنجس شدن لحم ایمن ماند سید علّامہ احمد طحطاوی درحاشیہ درمختارفرمودہ فالاولی قبل وضعھا فی الماء المسخن ان ےیخرج مافی جوفھا ویغسل محل الذبح مما علیہ من دم مسفوح تجمد[3] اھ والله سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
دھونے سے پاك ہوجائے گا کیونکہ وہ لوگ ناپاك کرنے والی چیز سے پرہیز نہیں کرتے۔ شرف الائمہ نے مرغی اور کرش (جگالی کرنے والے جانوروں کی اوجھڑی) کے بارے میں یہی بات فرمائی اور سمیط ان دونوں کی مثل ہے الخ۔
صاحبِ فتح القدیر قدس سرہ ، نے اسے پہلے تجنیس سے نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ گندم ، شراب میں پکائی گئی اس کے بارے میں امام ابویوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں اسے تین بار پانی میں پکایا جائے اور ہر بار خشك کیا جائے۔ گوشت کا بھی یہی حکم ہے۔ امام ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں وہ کبھی پاك نہیں ہوگی اور اسی پر فتوٰی ہے اھ اور فرمایا یہ سب کچھ امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے نزدیك پاك نہیں ہوتا۔ (ت)
یہاں سے ظاہر ہوا کہ جو شخص یہ کام کرنا چاہے اس کیلئے بہتر اور زیادہ محتاط یہ ہے کہ پہلے مرغی کا پیٹ چاك کرکے اسے آنتوں سے پاك کرے اور بہنے والے خون کو جو گردن وغیرہ پر جم جاتا ہے دھولے اس کے بعد جس پانی میں چاہے رکھے تاکہ گوشت کے ناپاك ہونے سے مطمئن ہو۔ علّامہ احمد طحطاوی نے درمختار کے حاشیہ میں فرمایا بہتر یہ ہے کہ گرم پانی میں رکھنے سے پہلے جو کچھ اس کے پیٹ میں ہے نکال لیا جائے اور ذبح کے مقام سے جما ہوا خون مسفوح دھولیا جائے اھ۔ (ت)
مسئلہ ۱۷۱ : از شہرکہنہ۴۔ ذیقعدہ ۱۳۰۸
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پڑیا کے رنگ ہوئے کپڑے سے نماز درست ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب :
بادامی رنگ کی پُڑیا میں تو کوئی مضائقہ نہیں اور رنگت کی پُڑیا سے ورع کے لئے بچنا اولٰی ہے پھر بھی اس سے نماز نہ ہونے پر فتوٰی دینا آج کل سخت حرج کا باعث ہے۔
والحرج مدفوع بالنص وعموم البلوی من موجبات التخفیف لاسیما فی مسائل الطھارۃ والنجاسۃ۔
نص سے ثابت ہے کہ حرج دُور کیا گیا اور عموم بلوٰی اسبابِ تخفیف سے ہے خصوصًا مسائلِ طہارت اور نجاست میں۔ (ت)
لہذا اس مسئلہ میں مذہب حضرت امام اعظم وامام ابویوسف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے عدول کی کوئی وجہ نہیں ہمارے ان اماموں کے مذہب پر پُڑیا کی رنگت سے نماز بلاشبہ جائز ہے۔ فقیر اس زمانے میں اسی پر فتوٰی دینا پسند کرتا ہے۔
وقدذکرنا علی ھذہ المسئلۃ کلاما اکثر من ھذا فی فتاوٰنا وسنحقق الامر بمالامزید علیہ ان ساعد التوفیق من الله سبحٰنہ وتعالٰی والله تعالٰی اعلم۔
ہم نے اپنے فتاوٰی میں اسی مسئلہ پر اس سے بھی زیادہ بحث کی ہے اور اللہتعالٰی کی طرف سے توفیق معاون ہُوئی تو ہم اس سلسلے میں ایسی تحقیق کریں گے جس کے بعد مزید گنجائش نہیں رہے گی۔ والله تعالٰی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۷۲ : مرسلہ مرزا باقی بیگ صاحب رام پوری ۲۰ ذیقعدہ ۱۳۰۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مرغی کی قے پاك ہے یا ناپاک ، اور جس شے کی بِیٹ پلید ہے کیا اس کی قے بھی پلید ہے؟ بینوا توجروا۔
الجواب :
ہر جانور کی قے اس کی بیٹ کا حکم رکھتی ہے جس کی بیٹ پاك ہے جیسے چڑیا یا کبوتر ، اس کی قے بھی پاك ہے۔ اور جس کی نجاست خفیفہ جیسے باز یا کوّا ، اُس کی قے بھی نجاست خفیفہ۔ اور جس کی نجاست غلیظہ ہے جیسے بط یا مرغی ، اس کی قے بھی نجاست غلیظہ۔ اور قے سے مراد وہ کھانا پانی وغیرہ ہے جو پوٹے سے باہر نکلے کہ جس جانور کی بیٹ ناپاك ہے اس کا پوٹا معدن نجاسات ہے پوٹے سے جو چیز باہر آئے گی خود نجس ہوگی یا نجس سے مل کر آئے گی بہرحال مثل بیٹ نجاست رکھے گی خفیفہ میں خفیفہ ، غلیظہ میں غلیظہ بخلاف اُس چیز کے جو ابھی پوٹے تك نہ پہنچی تھی کہ نکل آئی۔ مثلًا مُرغی نے پانی پیا ابھی گلے ہی میں تھا کہ اُچھّو لگا اور نکل گیا یہ پانی پیٹ کا حکم نہ رکھے گا لانہ مااستحال الی نجاسۃ ولالاقی محلھا (کیونکہ اس نے نجاست میں حلول نہیں کیا اور نہ ہی نجاست کی جگہ سے ملا۔ ت) بلکہ اسے سؤر یعنی جھُوٹے کا حکم دیا جائے گا کہ اُس کے منہ سے مل کر آیا ہے اُس جانور کا جھُوٹا نجاست غلیظہ یا خفیفہ یا مشکوك یا مکروہ یا طاہر جیسا ہوگا ویسا ہی اس چیز کو حکم دیا جائے گا جو معدہ تك پہنچنے سے پہلے باہر آئی جو مُرغی چھوٹی پھرے اُس کا جھوٹا مکروہ ہے یہ پانی بھی مکروہ ہوگا اور پوٹے میں پہنچ کر آتا تو نجاست غلیظہ ہوتا۔
اقول : اتقن ھذا التحقیق النفیس فلعلك لاتجدہ مصرحابہ فی متداولات الاسفار وانما استنبطناہ بحمدالله من کلمات العلماء استنباطًا واضحًا کالصبح حین الاسفار۔
اقول : اس نفیس تحقیق کو محفوظ کرلو شاید تم اسے بڑی کتب میں بھی بالتصریح نہ پاؤ بحمداللہتعالٰی ہم نے اسے علماءِ کرام کے کلام سے روزِ روشن کی طرح واضح استنباط کیا ہے۔ (ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع