دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 4 | فتاوی رضویہ جلد ۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۴

وقع الشك فی بقاء النجاسۃ فلاتبقی مع الشك[1]۔

نجاست کے باقی رہنے میں شك ہے ، تو شك کے ساتھ نجاست باقی نہیں رہے گی۔ (ت)

بدائع میں ہے :

وعلی ھذا حوض الحمام اوالاوانی اذاتنجس[2]۔

حمام کا حوض اور برتن ناپاك ہوجائیں تو ان کا بھی یہی حکم ہے۔ (ت)

شرح تنویر میں ہے :

حکم سائر المائعات کالماء فی الاصح[3]۔

اصح قول کے مطابق تمام مائع چیزوں کا حکم پانی کی طرح ہے۔ (ت)

شرح نقایہ میں ہے :

المائع کالماء والدبس وغیرھما طھارتہ اما باجرائہ مع جنسہ مختلطابہ کماروی عن محمد کمافی التمرتاشی [4] الخ۔

مائع (بہنے والی چیز) پانی اور شیرے وغیرہ کی طہارت اس کی جنس کے ساتھ ملاکر جاری کرنے سے ہوتی ہے ، جیسا کہ امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے مروی ہے جیسے تمرتاشی میں ہے۔ (ت)

ردالمحتار میں ہے :

ھذا صریح بانہ یطھر بالاجراء نعم علٰی ماقدمناہ عن الخلاصۃ من تخصیص الجریان بان یکون اکثر من ذراع اوذراعین تیقید بذلك ھنالکنہ مخالف لاطلاقھم من طھارۃ الحوض بمجرد الجریان[5]۔

یہ اس بارے میں واضح ہے کہ وہ جاری کرنے سے پاك ہوجاتا ہے۔ ہاں جو کچھ ہم نے اس سے پہلے خلاصہ سے نقل کیا ہے کہ جریان ایك یا دوہاتھوں سے زیادہ بلند ہونے کے ساتھ خاص ہے۔ یہ قید وہاں تو صحیح ہے لیکن حوض کے بارے میں ان کے اطلاق کے خلاف ہے کیونکہ وہ محض جاری ہونے سے پاك ہوجاتا ہے (ت)

خزانہ میں ہے :

اناء ان ماء احدھما طاھر والاٰخر نجس فصبا من مکان عال فاختلطا فی الھواء ثم نزلاطھر کلہ[6]۔

دو۲ برتن جن میں سے ایك کا پانی پاك ہو اور دوسرے کا ناپاك ہو بلند جگہ سے ان کا پانی گرایا جائے پھر فضا میں ان کا پانی مل کر گرے تو تمام پانی پاك ہوجائے گا۔ (ت)

ان مسائل کی تحقیق کامل حاشیہ علّامہ فاضل شامی قدس سرّہ السامی میں ہے

من شاء فلیرجع الیھا قلت واذاکانت النجاسۃ تزول بھذا فزوال الکراھۃ من باب اولی فانھا انما کانت فی سؤر السواکن لتوھم النجاسۃ کماحققہ المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر فمزیل المعلوم احق واحری بازالۃ الموھوم والله سبحنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ جو چاہے اس کی طرف رجوع کرے قلت جب اس طریقے سے نجاست زائل ہوجاتی ہے تو کراہت کا زوال بطریق اولٰی ہوگا وہ گھروں میں رہنے والے جانوروں کے جھُوٹے میں نجاست کے وہم سے ہوتی ہے جیسے محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں تحقیق فرمائی ہے پس جو چیز معلوم نجاست کو زائل کرتی ہے وہ موہوم نجاست کو زائل کرنے کا زیادہ حق رکھتی ہے اور زیادہ مناسب ہے۔ اللہسبحٰنہ وتعالٰی خوب جانتا ہے اور اس ذات بزرگ وبرتر کا علم زیادہ کامل اور مضبوط ہے۔ (ت)

مسئلہ ۱۷۰ : از اندور صدربازار چھاؤنی بانسری صاحب قریب مکان بابودین دیال مرسلہ میاں عبدالقادر صاحب یکم رجب ۱۳۰۸ھ

چہمی فرمایند علمائے ذوی الاقتدار ومفتیان ورع شعاردریں مسئلہ کہ مردے میگوید کہ ماکیان مذبوحہ رابدون برآوردن پروچاك شکمش درآب گرم انداختہ برون برآوردہ پرہاے برکندہ پزانندپس بعدم چاك شکم اوکہ آلایش بطنی اندرونش بودمردار گردیدہ ازیں باعث تشکیك است ورحلت وحرمت آں جانور مذبوجہ صورت ایں مسئلہ چگونہ است بیان فرمایند                                                                                 کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اور متقی مفتیانِ کرام اس مسئلہ میں کہ ایك آدمی کہتا ہے کہ ذبح کی ہوئی مُرغیوں کے پَر اکھیڑنے اور پیٹ چاك کیے بغیر ان کو گرم پانی میں ڈالتے ہیں پھر باہر نکال کر پَر اکھاڑ کر پکاتے چونکہ پیٹ چاك نہ کرنے کی وجہ سے پیٹ کی آلائش اندر ہی رہتی ہے لہذا وہ مردار ہوگیا۔ بنابریں اس مذبوحہ جانور کے حلال وحرام ہونے میں شك پیدا ہوگیا

بسند عبارت کتب علماء رحمۃ اللہعلیہم اجمعین۔

اس مسئلہ کی کیا صورت ہوگی۔ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیکی کتابوں سے حوالہ دیتے ہوئے بیان فرمائیں۔ (ت)

الجواب :

پیداست کہ مراد اینان ازنیکار یختن ماکیان دریں آب نمی باشد ب بلالکہ ہمیں ایصال حرارتے لظاہر جلدش تامواضع بینحاے پرسست ونرم شود وبرکندن نیز آساں گردر اینقدر راتیزگرم آبی کہ بحدجوش وغلیان رسیدہ باشد ضرورنیست نہ درنگ بسیارے کہ باعث نفوذ آب وجزآں دراجزائے باطنہ لحم باشدبلکہ اگر ایں چنیں کنند مقصود ایشاں رازیاں دارد پس ہمیں قدر کہ درآب فاترے نہادند یادرجوشش آب مہلت بسیارے ندادند نجاست باجزائے گوشت سرایت نمی کندہمیں بسطوح ظاہرہ میر سد لہذا دریں صورت حکم مردار زنہارنتواں دادطہارت وحلت اور اہمیں بسندست کہ لحم را سہ باربہ آب شویند وفشرند وبکاربرند۔

آرے اگر ماکیان بحالت غلیان وفوران آب آں مقدار در آب مکث کرد کہ نجاست باطن بسبب جوش ودرنگ درقعر وعمق لحم نفود نمود آنگاہ برقول مفتی بہ حکم مردار پیدا کندکہ بہےیچ حیلہ او را طاہر وحلال نتواں ساخت۔

                ظاہر ہے کہ ان لوگوں کے اس عمل کا مقصد مرغیوں کو اس پانی میں پکانا نہیں ہے بلکہ یہی ان کی ظاہری جلد کو حرارت پہنچاتا ہے تاکہ پَر کی جڑوں والی جگہ ڈھیلی اور نرم پڑ جائے اور پروں کا اکھاڑنا آسان ہوجائے۔ اس کام کیلئے اتنے گرم پانی کا ہونا ضروری نہیں جو جوش کی حالت کو پہنچ چکا ہو نہ ہی زیادہ ٹھہرنا جو پانی اور اس کے اجزا کا گوشت کے اندرونی اجزاء میں سرایت کرنے کا باعث بنے بلکہ اگر وہ ایسا کریں تو اُن کے مقصد میں نقصان ہوگا۔ پس اتنے کام سے کہ نیم گرم پانی میں رکھیں یا اُبلے ہوئے پانی میں زیادہ دیر نہ رکھیں نجاست ، گوشت کے اجزاء میں سرایت نہیں کرتی محض ظاہری سطح تك پہنچتی ہے لہذا اس صورت میں ہرگز مردار ہونے کا حکم نہیں لگایا جائے گا اور اس کے پاك وحلال ہونے کیلئے یہی کافی سند ہے کہ گوشت کو تین بار پانی سے دھوئیں اور نچوڑیں اور کام میں لائیں۔ (ت)

 



[1]   ردالمحتار مطلب یطہر الحوض بمجرد الجریان مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۳۰

[2]   بدائع الصنائع فصل فی بیان مایقع بہ التطہیر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۸۷

[3]   درمختار باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۵

[4]   جامع الرموز فصل یطہر الشیئ الخ مکتبہ اسلامیہ قاموس گنبد ایران ۱ / ۹۵

[5]   ردالمحتار مطلب فی الحاق نحوالقصعۃ بالحوض مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۳۱

[6]     ردالمحتار باب الانجاس مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن