30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لنگوٹ دوسرا پاك باندھ لیا اور وضو کرکے نماز پڑھ لی ازاں بعد عصر کے وقت بھی اسی طرح لنگوٹ بدلا گیا۔ اب مغرب وعشا کے وقت پاخانہ وغیرہ کی ضرورت ہوئی نہ لنگوٹ کھولنے کی ضرورت پڑی اُسی لنگوٹ سے جو عصر کے وقت باندھا تھا نمازِ مغرب وعشا خواہ وضو خواہ تیمم سے اداکرے۔
تو اب ان صورتہائے مذکورہ بالا میں پانچوں نمازیں اس شخص کی پورے طور پر ادا ہوگئیں یا نہیں اور حالاتِ مذکورہ پر نماز پڑھنا اور نماز کافی ہونا درست ہے یا نہیں؟
۲ایسا شخص جس کا بیان اُوپر گزرا جبکہ اُس کی نماز کامل متصور ہو تو ایسی حالت میں جب کوئی شخص امامت کے لائق نہ ہو یعنی مسجد میں سب لوگ جاہل ہوں تو یہ شخص مذکور امامت کرسکتا ہے یا نہیں؟ـ اور رمضان المبارك میں نمازِ تراویح پڑھا سکتا ہے یا نہیں اس وجہ سے کہ حافظ ہے۔ عنداللہارشاد کافی کہ جس سے اس عاجز معذور ومجبور کی تسلّی ہوجائے ارقام فرمادیجئے۔
الجواب :
اگر ۱ وہ چپك صرف نم ہوتی ہے جس میں قوّتِ سیلان نہیں کپڑا لگ کر اُسے چھڑا لاتا ہے اگرچہ بار بار مختلف جگہ مس ہونے سے قدر درہم سے زائد آلود ہوجاتا ہو تو اُس سے نہ وضو جائے گا نہ کپڑا ناپاك ہوگا۔
اور۲ اگر وہ رطوبت سیلان کرتی ہے اور لنگوٹ کے سبب غایت یہ کہ پاجامہ اُس کے تلوّث سے محفوظ اور اُس کا سیلان لنگوٹ تك محدود رہے تو اس صورت میں ضرور جتنی بار بہہ کر خروج کرے گی فی نفسہ حدث وناقض وضو ہے اور لنگوٹ اگر قدر درم سے زائد بھر جائے تو بذاتہٖ ناپاك ہے اور پاجامہ کا پاك ہونا اس کی پاکی کو کافی نہیں۔
ہاں۳ اگر لنگوٹ باندھنا اس کے سیلان ہی کو منع کردیتا ہے تو ضرور اُس پر فرض ہے کہ لنگوٹ باندھے اور جب تك سیلان سے مانع ہوگا نہ وضو جائے گا نہ کپڑا ناپاك ہوگا۔ پہلی اور تیسری صورت میں اسے امامت کی بھی اجازت ہے اور دُوسری صورت میں اگر معذوری کی حد کو نہ پہنچا تو بے طہارت کاملہ خود اس کی اپنی نماز بھی نہ ہوگی اُس پر فرض ہوگا کہ جب سیلان ہو وضو کرے اور جب کپڑا ناپاك ہو بدلے یا دھوئے۔
ہاں اگر کبھی اسے یہ تجربہ ہولیا کہ ایك وقت کامل شروع سے آخر تك گزر گیا کہ اُسے وضو کرکے فرض پڑھنے کی مہلت نہ ملی تو اب دو۲ صورتیں ہیں اگر اس حالت کے بعد نماز کے پانچوں وقتوں میں یہ عارضہ برابر ہوتا رہا اگرچہ ہر وقت میں ایك ایك بار ، تو معذور ہے ، اس کی اپنی نماز ہوجائے گی مگر امامت نہیں کرسکتا مگر ایسے شخص کی جو اسی عذر میں مبتلا ہو اور اگر ایسا نہیں بلکہ اس کے بعد کوئی وقت کامل ایسا گزرا کہ وہ عارضہ بالکل نہ ہوا تو حکم معذور جاتا رہا پھر اگر شروع ہو تو دوبارہ معذور ہونے کے لئے وہی درکار ہوگا کہ ایك وقت کامل شروع سے آخر تك گزر جائے جس میں اُسے طہارت کرکے فرض کی مہلت نہ ملے ولہذا وہ اوقات جن میں وہ لنگوٹ نہیں بدلتا اگر پُوری طہارت کے ساتھ گزر جاتے ہیں تو اُن میں تو اُس کی اپنی نماز بھی صحیح ہے اور امامت بھی صحیح فرائض ہوں خواہ تراویح مگر صبح کو جو پھر عارضہ کا آغاز ہوگا ابھی معذور نہ ٹھہرے گا ہر بار عارضہ آنے پر وضو کرنا اور کپڑا ناپاك ہونے پر دھونا یا بدلنا پڑے گا جب تك وہی تجربہ ایك وقت کامل میں نہ ہوجائے کل کا تجربہ آج کیلئے کافی نہ ہوگا۔ ردالمحتار میں ہے :
قال فی الفتح معناہ اذاکان بحیث لولاالربط سال لان القمیص لوتردد علی الجرح فابتل لاینجس مالم یکن کذلك لانہ لیس بحدث اھ ای وان فحش کمافی المنیۃ[1]۔
فتح القدیر میں فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ جب اس صورت میں ہوکہ باندھنے کے بغیر جاری ہوجاتا ہو کیونکہ اگر قمیص زخم سے ٹکرا کر تر ہوجائے تو اس وقت ناپاك نہ ہوگی جب تك وہ (زخم) اس صورت میں نہ ہو (یعنی جاری ہونے کی صورت میں ناپاك ہوگی) کیونکہ وہ (نہ جاری ہونے والا) حدث نہیں اگرچہ زیادہ ہو جیسا کہ منیہ میں ہے۔ (ت)
اُسی میں ہے :
فی البزازیۃ اذاقدر ذوجرح علی منع دم بربط لزم وکان کالاصحاء [2] ۔ والله تعالٰی اعلم۔
بزازیہ میں ہے اگر زخمی (زخم کو) باندھنے کے ذریعے خُون روکنے پر قادر ہو تو اس پر (باندھنا) لازم ہے اور وہ شخص غیر معذور لوگوں کی طرح ہوجائے گا واللہتعالٰی اعلم۔ (ت)
مسئلہ۱۶۰ : ازقصبہ نجیب آباد وضلع بجنور مرسلہ حافظ محمد ایاز صاحب ۲۰ صفر ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ جو شخص معذور ہے کہ پاخانہ کی جگہ سے اس کے کچھ چپك سا ہروقت آتا ہے تو اس کے واسطے حضور نے معذور کا حکم فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ وہ شخص ہر نماز کے واسطے تازہ وضو کرے اور جو پانی غلیظ درہم سے کم ہو اور وہ بہتا بھی نہ ہو تو اُس سے وضو بھی نہیں ٹوٹتا ، صورتِ اول میں جو ہر نماز کے واسطے تازہ وضو کی ضرورت ہے اُس وضو کو اگر قبل ازوقت کرلیا۔ مثلًا جمعہ کی نماز کے واسطے بارہ بجے وضو کرکے مسجد کو چلاگیا تو اس وضو سے نمازِ جمعہ اداہوگی یا نہیں اور یا نمازِ مغرب کے واسطے ایك گھنٹہ دن سے وضو کرلیا تو اس سے نمازِ مغرب اداہوگی یا نہیں یا مثلًا نمازِ تہجّد کے وقت جسم وغیرہ دھوکر صاف تہبند یعنی لنگوٹ پاجامہ کے اندر باندھ لیا اور وضو کرے نماز تہجّد وقرآن شریف وغیرہ وغیرہ صبح کی نماز تك پڑھتا رہا جب نماز کا وقت ہوا دو۲ رکعت سنّت صبح کی پڑھ کر مسجد میں جاکر فرض باجماعت اداکیا اور ازاں بعد طلوعِ آفتاب تك وہاں بیٹھا رہا بعد طلوع نمازِ اشراق سے فارغ ہوکر مکان کو آیا۔ تو اب اُس تہجد کے وضو سے یہ سب نمازیں اس کی ہوگئیں یا بعد نماز تہجد کے صبح کی نماز کے واسطے مکرر وضو کرنا چاہے اور اُس کے بعد اشراق کے واسطے صبح کی نماز کا وضو کافی ہوگا یا اشراق کے واسطے پھر جدید وضو کرے۔ اور دوسری صورت کو جو غلاظت درہم سے کم ہو اور بہتی نہ ہو بلکہ لنگوٹ سے بار بار پُونچھ جائے اس کے واسطے وضو ونماز کا کیا حکم ہے عنداللہوعند الرسول مع دلائل ارشاد فرمائیے ورنہ اسی فکر میں یہ عاجز ہمیشہ رہے گا واللہتعالٰی اعلم آپ کو اجرِ عظیم وثوابِ جمیل عطا فرمائے۔
الجواب :
مسئلہ کو پھر دیکھیے نہ بہنے کی صورت میں درم سے کم زائد کی کوئی تخصیص نہ تھی اگر بہنے کے قابل نہیں بلکہ کپڑا لگ کر چھڑا لاتا ہے تو نہ وہ معذور ہوا نہ وضو گیا نہ کپڑا ناپاك ہوا اگرچہ درم سے زائد بھر جائے اور اگر بہنے کے قابل ہے تو اس صورت میں معذور بتایا تھا اور اس میں بھی درم سے کم وزائد کی کوئی قید نہیں ہاں اس صورت میں کپڑا ناپاك ہونے کیلئے درم سے زائد بھرنے کی شرط ہے معذور کا وضو ہمارے نزدیك خروج وقت سے جاتا ہے دخول سے نہیں تو تہجّد کے وضو سے صبح نہیں پڑھ سکتا کہ وقتِ عشا خارج ہوگیا صبح کے وضو سے اشراق نہیں پڑھ سکتا کہ وقت صبح خارج ہوگیا اشراق کے وضو سے ظہر وجمعہ پڑھ سکتا ہے اس بیچ میں کسی فرض نماز کا وقت خارج نہ ہوا۔ والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۱ ، ۱۶۳ : از شہر محلہ بہاری پور مسئولہ نواب مولوی سلطان احمد خان صاحب۲۸۔ ذی القعدہ ۱۳۳۰ھ
(۱) معذور صبح کے وضو سے اشراق کی نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں۔
(۲) معذور نے ایسے آخر وقت میں نماز شروع کی کہ دوسرے وقت میں تمام ہُوئی مثلًا ظہر کی عصر میں یا عصر کی مغرب میں تو نماز ہوگئی یا اس کو پھر قضا پڑھے درصورت ثانیہ جب ایسا وقت آخر ہوگیا کہ نماز دوسرے وقت میں جاکر ختم ہوگی تو نماز پڑھ کر پھر اس کی قضا پڑھے یا نہ پڑھے جب تك وقت دوسرا نہ ہوجائے کہ پہلے نماز اول پڑھے پھر دوسری۔
الجواب :
(۱) نہیں کہ خروج وقت ناقضِ وضوء معذور ہے ہاں اشراق کے وضو سے آخر تك نمازیں فرض ونفل پڑھ سکتا ہے کہ دخولِ وقت ناقضِ وضو نہی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع