30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یندب تصدقہ بدینار اونصفہ ومصرفہ کزکاۃ وھل علی المرأۃ تصدق قال فی الضیاء الظاھرلا [1]۔
ایك دینار یا نصف دینار صدقہ دینا مستحب ہے اس کا مصرف وہی ہے جو زکاۃ کا ہے۔ اور کیا عورت کو بھی صدقہ دینا واجب ہے؟ تو ضیاء (الضیاء المعنوی شرح مقدمۃ الغزنوی) میں فرما یا : ظاہر بات یہ ہے کہ اس پر (واجب) نہیں۔ (ت)
فتح القد یر میں ہے :
یتصدق بدینار اوبنصفہ استحبابا وقیل بدینار انکان اول الحیض وبنصفہ ان وطئ فی اخرہ کان قائلہ رأی انہ لامعنی للتخییر بین القلیل والکثیر فی النوع الواحد [2] اھ اقول لاعزا فی التخییر بین الفاضل والافضل فیکون المعنی یتصدق بنصف دینار وھذا ادنی مایندب الیہ کفارۃ لماوقع فان اکمل دینارا فاجود وایضا قدیکون التردید باعتبار المیسر ای بدینار ان تیسر والا فبنصفہ وقدروی فی الحدیث کمامر لکن الاظھر کماقال القاری فی المرقاۃ ان قائلہ اخذ التفصیل من الحدیث الاٰتی عن ابن عباس [3] اھ
ایك دینار یا نصف دینار صدقہ کرنا مستحب ہے اور کہا گیا کہ اگر حیض کا آغاز تھا تو ایك دینار ، اور آخری دنوں میں وطی کی تو نصف دینار دے ، گو یا اس قائل کی رائے میں ایك ہی نوع میں قلیل وکثیر کے درمیان اختیار کا کوئی مطلب نہیں اھ۔
اقول : فاضل اور افضل کے درمیان اخت یار دینا قابل تعجب نہیں لہذا مطلب یہ ہوگا کہ نصف دینار صدقہ کرے اور یہ اس کے جُرم کا کم ازکم مستحب کفارہ ہے اگر پُورا دینا ر دے تو نہایت عمدہ ہے نیز کبھی اختیار میسر آنے والی چیز کے اعتبار سے بھی ہوتا ہے یعنی اگر میسر ہو تو ایك دینار اور میسر نہ ہو تو نصف دینار دے اور یہ بات حدیث میں مروی ہے جیسا کہ گزرچکا لیکن ز یادہ ظاہر بات وہ ہے جو حضرت ملّا علی قاری
بلون الدم فانہ یکون فی بدنہ احمر فاذا قارب الانقطاع یصفر۔
اقول : وبہ ظھر ضعف ماوقع فی البحر وتبعہ ش من جعل العبارتین قولین اذقال قیل ان کان فی الاول الحیض فدینار اواٰخرہ فنصفہ وقیل دینار لواسود ونصفہ لواصفر [4] اھ قال فی البحر ویدل لہ مارواہ ابوداود والحاکم وصححہ [5]
فذکر اللفظ الثالث الذی عزوناہ لاحمد والترمذی ولم ارہ لابی داؤد والله تعالٰی اعلم ھذا وقال القاری قال المنذری قدوقع اضطراب فی ھذا الحدیث متناواسنادا رفعا ووقفا وارسالا واعضالا کذا نقلہ السید جمال الدین عن التخریج
رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے بیان فرمائی کہ اس کے قائل نے حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما کی روایت سے جو آگے (مرقات میں) آرہی ہے تفصیل حاصل کی ہے (انتہی) یعنی خون کے رنگ کے اعتبار سے جو تفصیل گزری ہے ، کیونکہ وہ شروع میں سُرخ ہوتا ہے اور ختم ہونے کے قریب زرد ہوجاتا ہے۔
اقول : اسی سے اس بات کی کمزوری ظاہر ہوگئی جو البحرالرائق میں ہے اور امام شامی نے بھی اس کی اتباع کرتے ہوئے دو عبارتوں کو دو قول قرار د یا جب انہوں نے کہا کہ کہا گیا ہے اگر حیض کے شروع میں (جماع کیا) تو ایك دینار اور آخر میں ہو تو نصف دینار ہوگا۔ اور ایك قول یہ ہے کہ اگر سیاہ رنگ ہو تو ایك دینار اور زرد رنگ ہو تو نصف دینار ہوگا [6]۔ البحرالرائق میں فرما یا اس بات پر امام ابوداؤد اور حاکم کی روایت دلالت کرتی ہے جسے انہوں نے صحیح قرار د یا ہے۔
اور لفظ ثالث (سُرخ رنگ) ذکر کیا جسے ہم نے امام احمد اور ترمذی کے حوالے سے نقل کیا ہے لیکن میں نے اسے ابوداؤد میں نہیں دیکھا واللہتعالٰی اعلم۔ اس (تقر یر) کو اپنائیے حضرت ملّا علی قاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرما یا : منذری نے کہا ہے کہ اس حدیث میں متن ، سند ، رفع ، وقف ،
فقول ابن حجر وسندہ حسن غیر مستحسن [7] اھ
اقول : لایضر عندنا الارسال ولاالاعضال وقد یاتی الرادی بالسند تاما وقد یحذف فلا اضطراب وکذا الرفع والوقف ثم الوصل والرفع ز یادۃ ثقۃ فتقبل کماحققہ المحقق فی الفتح فی غیرما موضع قال القاری قال میرك ھذا بیان اضطراب الاسناد اما الاضطراب فی متنہ فروی(۱) بدینار اونصف دینار علی الشك وروی(۲) یتصدق بدینار فان لم یجد فبنصف دینار وروی(۳) التفرقۃ بین ان یصیبھا فی اقبال الدم اوفی انقطاع الدم وروی(۴) یتصدق بخمس دینار وروی(۵) بنصف دینار وروی(۶) اذاکان دما احمر فدینار وان کان دما اصفر فنصف دینار[8] اھ
اقول : قدعلمت کل ھذہ الروا یات وتخار یجھا الاروا یۃ الخمس وھو للدارمی ابن راھویہ وحسنہ خاتم الحفاظ عن عبدالحمید بن زید بن الخطاب قال کان لعمر بن الخطاب
ارسال اور اعضال [9] کے اعتبار سے اضطراب ہے سید جمال الدین نے تخریج سے اسی طرح نقل کیا ہے پس ابن حجر (عسقلانی) کا اس کی سند کو حسن قرار دینا غیر مستحسن ہے اھ۔
اقول : ہمارے نزدیك ارسال واعضال سے کوئی فرق نہیں پڑتا راوی کبھی پُوری سند لاتا ہے اور کبھی حذف کردیتا ہے لہذا کوئی اضطراب نہیں رفع اور وقف کا بھی یہی حال ہے پھر رفع اور وصل (راوی کے) اضافہ ثقاہت کے لئے ہیں لہذا اسے قبول کیا جائے جسے محقق نے فتح القد یر کے کئی مقامات پر اس کی تحقیق کی ہے۔ ملّا علی قاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں میرك نے کہا ہے کہ یہ اضطراب سند کا بیان ہے لیکن متن کا اضطراب یہ ہے کہ ایك روایت میں ایك دینار اور نصف دینار کا بطور شك ذکر کیا گیا۔ دوسری روایت میں ہے کہ ایك دینار صدقہ دے۔ تیسری روایت کے مطابق خون آنے اور نہ آنے کے دونوں میں جماع کرنے کا فرق ہے جبکہ چوتھی روایت میں ہے دینار کا پانچواں حصہ صدقہ کرے۔ پانچویں روایت میں ہے وہ نصف دینار صدقہ کرے۔ اور چھٹی روایت میں ہے اگر خُون سُرخ ہو تو ایك دینار دے اور زرد ہو تو نصف دینار دے اھ۔ اقول : ان تمام روایات
امرأۃ تکرہ الجماع فکان اذااراد ان یاتیھا اعتلت علیہ بالحیض فوقع علیھا فاذاھی صادقۃ فاتی النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فامرہ ان یتصدق بخمس دینار [10] اھ۔
[1] درمختار باب الحیض مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۲
[2] فتح القد یر باب الحیض مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۴۷
[3] مرقاۃ شرح مشکوٰۃ الفصل الثانی من باب الحیض مکتبہ امدادیہ ملتان ۲ / ۱۰۰
[4] رد المحتار باب الحیض مصطفی البانی مصر ۱ / ۲۱۸
[5] البحرالرائق باب الحیض مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۹۷
[6] امام اہلسنت علیہ الرحمۃکا مطلب یہ ہے کہ حیض کی ابتدا میں خون کا رنگ سیاہ ہوتا ہے اور آخر میں زرد ، لہذا آغازِ حیض اور سیاہ رنگ ایك ہی بات ہے جبکہ اختتامِ حیض اور زرد رنگ بھی ایك ہی چیز ہے گو یا ایك ہی قول کو صاحب البحرالرائق اور شامی نے دو قول قرار د یا ۱۲ ہزاروی
[7] مرقات شرح مشکوٰۃ الفصل الثانی من باب الحیض مکتبہ امدادیہ ملتان ۲ / ۱۰۱
[8] مرقات شرح مشکوٰۃ الفصل الثانی من باب الحیض مکتبہ امدادیہ ملتان ۲ / ۱۰۱
[9] تابعی سے اوپر کا راوی ساقط ہو تو یہ ارسال ہے اور حدیث کی سند سے دو یا زاید راویوں کا سقوط اعضال کہلاتا ہے ۱۲$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع