30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایك بات ضرور ہے یا۱ تو عورت نہالے اور اگر بوجہ مرض یا پانی نہ ہونے کے تیمم کرنا ہو تو تیمم کرکے نماز بھی پڑھ لے خالی تیمم کافی نہیں یا۲ طہارت نہ کرے تو اتنا ہوکہ اس پر کوئی نمازِفرض فرض ہوجائے یعنی نماز پنجگانہ سے کسی نماز کا وقت گزر جائے جس میں کم سے کم اس نے اتنا وقت پا یا ہو جس میں نہاکر سر سے پاؤں تك ایك چادر اوڑھ کر تکبیر تحریمہ کہہ سکتی تھی اس صورت میں بے طہارت کے بھی اُس سے صحبت جائز ہوجائے گی ورنہ نہیں مگر یہ کہ عورت کتابیہ یہودیہ یا نصرانیہ ہو تو اُس سے مطلقًا بے نہائے صحبت جائز ہے جبکہ انقطاع حیض ایام عادت سے کم میں نہ ہوا ہو۔
فی الدر المختار یحل وطؤھا اذا انقطع حیضھا لاکثرہ بلا غسل وجوبا بل ندبا وان انقطع لاقلہ فان لدون عادتھا لم یحل (الوطؤ وان اغتسلت لان العود فی العادۃ غالب بحر) وان لعادتھا فان کتاب یۃ حل فی الحال (لانہ لااغتسال علیھا لعدم المطالب) والالایحل حتی تغتسل اوتتیمم بشرطہ (ھو فقد الماء بہ والصلٰوۃ بہ علی الصحیح کمایعلم من النھر و غیرہ وبھذا ظھر ان المراد التیمم الکامل المبیح للصلاۃ مع الصلاۃ بہ ایضا) اویمضی علیھا زمن یسع الغسل ولبس الث یاب والتحریمۃ
درمختار میں ہے : اگر عورت کا حیض ، ز یادہ دنوں کے بعد ختم ہو تو اس کے ساتھ غسل واجب بلکہ مستحب غسل سے بھی پہلے وطی کرنا جائز ہے اور اگر کم از کم مدت میں ختم ہو تو (دیکھیں گے) اگر عادت سے کم میں ختم ہو تو جماع جائز نہیں اگرچہ غسل کرلے کیونکہ عادت کی طرف لَوٹنا غالب ہے (بحرالرائق) اگر عادت کے مطابق ختم ہوا تو کتابیہ ہونے کی صورت میں اسی وقت وطی حلال ہوجائےگی کیونکہ اس پر غسل واجب نہیں اس لئے کہ اس سے (غسل کا) مطالبہ کرنے والی چیز (یعنی اسلام) نہیں۔ اگر وہ کتابیہ نہیں تو جب تك غسل یا شرائطِ تیمم پائے جانے کی صورت میں تیمم نہ کرے اس سے جماع جائز نہیں۔ صحیح قول کے مطابق (اس کےلئے تیمم کی) شرط یہ ہے کہ پانی نہ ہونا اور اس کے ساتھ نماز پڑھنا ہے جیسا کہ
یعنی من آخر الوقت لتعلیلھم بوجوبھا فی ذمتھا حتی لوطھرت فی وقت العید لابد ان یمضی وقت الظھر کمافی السراج [1] اھ مزیدا من ردالمحتار [2]۔
ورأیتنی کتبت علی قولہ ولیس الثیاب مانصہ ای المبیحۃ للصلاۃ ولورداء واحدا یسترھا من قرنھا الی قدمھا لان المقصود کون الصلاۃ دینا علیھا وذلك یحصل بھذا القدر ولذا استظھر العلامۃ الحلبی فی الغسل ان المراد قدر الفرض وھو ظاھر [3] والله تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
نہر (نہرالفائق) و غیرہ سے معلوم ہوتا ہے اس سے ظاہر ہوا کہ تیمم کامل مراد ہے جس سے نہ صرف یہ کہ نماز پڑھنا جائز ہوجائے بلکہ اس کے ساتھ نماز بھی پڑھ لے) یا اتنا وقت گزر جائے جس میں غسل کرکے کپڑے پہننے اور تکبیر تحریمہ کی گنجائش ہوکیونکہ انہوں نے اسی بات کو عورت کے ذمہ (نماز) واجب ہونے کی علت قرار د یا ہے حتی کہ اگر عید کے وقت پاك ہوجائے تو اس پر وقتِ ظہر گزرنا ضروی ہے جیسا کہ سراج میں ہے (انتہی) یہ ردالمحتار سے اضافہ کے ساتھ ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ میں نے اس (دُرمختار) کے قول “ ولیس الثیاب “ پر لکھا ہے کہ اس سے وہ کپڑے مراد ہیں جن کے ساتھ نماز جائز ہوجاتی ہے اگرچہ ایك چادر ہو جو سر سے قدموں تك اسے ڈھانپ لے کیونکہ مقصد تو نماز کا اس کے ذمہ فرض ہونا ہے اور یہ اس مقدار سے حاصل ہوجاتا ہے اسی لئے علامہ حلبی نے غسل کے بارے میں بتا یا کہ اس سے فرض کا اندازہ مراد ہے اور یہی ظاہر ہے والله تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ (ت)
سوال دوم : ایامِ حیض میں اپنی عورت سے ران یا پیٹ پر یا کسی اور مقام پر فراغت حاصل کرنا جائز ہے یا نہیں۔ بینواتوجروا۔
الجواب :
پیٹ پر جائز اور ر ان پر ناجائز۔ کلیہ یہ ہے کہ حالتِ حیض ونفاس میں ز یر ناف سے زانو تك عورت کے بدن سے بلاکسی ایسے حائل کے جس کے سبب جسم عورت کی گرمی اس کے جسم کو نہ پہنچے تمتع جائز نہیں یہاں تك کہ اتنے ٹکڑے بدن پر شہوت سے نظر بھی جائز نہیں اور اتنے ٹکڑے کا چھُونا بلاشہوت بھی جائز نہیں اور اس سے اوپر نیچے کے بدن سے مطلقًا ہر قسم کا تمتع جائز یہاں تك کہ سحق ذکر کرکے انزال کرنا۔
فی الدرالمختار یمنع حل قربان ماتحت ازار یعنی مابین سرۃ ورکبۃ ولوبلاشھوۃ وحل ماعداہ مطلقا [4]اھ
وفی ردالمحتار نقل فی الحقائق عن التحفۃ والخانیۃ یجتنب الرجل من الحائض ماتحت الازار عند الامام وقال محمد الجماع فقط ثم اختلفوا فی تفسیر قول الامام قیل لایباح الاستمتاع من النظر و غیرہ بمادون السرۃ الی الرکبۃ ویباح ماورائہ وقیل یباح مع الازار اھ ولایخفی ان الاول صریح فی عدم حل النظر الی ماتحت الازار والثانی قریب منہ ولیس بعد النقل الاالرجوع الیہ [5] اھ والله تعالٰی اعلم۔
دُرمختار میں ہے : “ ازار کے نیچے یعنی ناف اور گھٹنے کے درمیان کا قُرب جائز نہیں اگرچہ بلاشہوت ہو اور اس کے علاوہ مطلقًا جائز ہے۔ اھ “ ۔
اور ردالمحتار میں ہے : “ حقائق میں تحفہ اور خانیہ سے نقل کیا گیا کہ “ امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے نزدیك مرد کو حائضہ عورت کی ازار کے نیچے سے اجتناب کرنا چاہئے “ ۔ امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں : “ فقط جماع سے پرہیز کرے “ ۔ پھر امام اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے قول کی وضاحت میں فقہاء کرام کا اختلاف ہے۔ کہا گیا ہے کہ ناف سے گھٹنوں تك دیکھنے اور اس کے ساتھ نفع حاصل کرنا بھی جائز نہیں اس کے ماسوا جائز ہے۔ اور ایك قول یہ ہے کہ ازار کے ساتھ جائز ہے (انتہی) مخفی نہ رہے کہ پہلا قول ازار کے نیچے (جسم) کی طرف دیکھنے کی حرمت میں واضح ہے اور دوسرا اس کے قریب ہے اور نقل کے بعد گنجائش نہیں اس کی طرف رجوع ہوتا ہے (انتہی) (یعنی قیاس نہیں کیا جاتا) والله تعالٰی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۴۷ : از شہرکہنہ ۱۰ جمادی الاولٰی ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نفاس کی اکثر مدّت چالیس۴۰ روز ہے کمتر کی حد نہیں اگر نفاس کا پانی ہشت روز میں بند ہو اور نماز اور روزہ اور وطی کے بعد پانی پھر آ یا اس میں کیا حکم ہے؟
الجواب :
پانی کوئی چیز نہیں وہ تو رطوبت ہے نفاس میں خون ہوتا ہے چالیس۴۰ دن کے اندر جب خون عود کرے شروع ولادت سے ختم خون تك سب دن نفاس ہی کے گنے جائیں گے جو دن بیچ میں خالی رہ گئے وہ بھی نفاس ہی میں شمار ہوں گے مثلًا ولادت کے بعد دو۲ منٹ تك خُون آکر بند ہوگیا عورت بگمانِ طہارت غسل کرکے نماز روزہ و غیرہ کرتی رہی چالیس۴۰ دن پُورے ہونے میں ابھی دو۲ منٹ باقی تھے پھر خُون آگیا تو یہ سارا چلّہ نفاس میں ٹھہرے گا نمازیں بیکار گئیں فرض یا واجب روزے یا ان کی قضا نمازیں جتنی پڑھی ہوں انہیں پھر پھیرے۔
فی ردالمحتار ان من اصل الامام ان الدم اذاکان فی الاربعین فالطھر المتخلل لایفصل طال اوقصر حتی لورأت ساعۃ دما واربعین الاساعتین طھرا ثم ساعۃ وماکان الاربعون کلھا نفاسا وعلیہ الفتوٰی کذا فی الخلاصۃ [6] نھر ، والله تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
ردالمحتار میں ہے : “ امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے ہاں ضابطہ یہ ہے کہ جب خون چالیس دنوں میں ہو تو طُہر متخلل فاصل نہیں ہوگا وقت ز یادہ ہو یا کم۔ حتی کہ اگر عورت نے ایك ساعت خُون دیکھا پھر دو ساعتیں کم چالیس دن پاك رہی پھر ایك ساعت خون دیکھا تو پُورے چالیس دن نفاس کے شمار ہوں گے اور اسی پر فتوٰی ہے۔ خلاصہ میں اسی طرح ہے نہر ، والله تعالٰی اعلم وعلمہ مجدہ اتم واحکم۔ (ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع