30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایسے موزے پر مسح جائز ہے جو قدم کے اوپر سے کھلا ہو اور اسے بٹن لگا کر بند کیا گیا ہو تو وہ بند کی طرح ہے اور اگر قدم کی پیٹھ سے کچھ حصہ ننگا ہو تو وہ پھٹے ہوئے موزے کی طرح ہے۔ اور اللہتعالٰی خوب جانتا ہے۔ (ت)
_____________________
مسئلہ ۱۴۲ : از وطن مرسلہ نواب مولوی سلطان احمد خان صاحب ۲ رمضان المبارک۱۳۱۰ھ
ماقولکم رحمکم الله تعالٰی ہٰذہ المسئلۃ دروسالہ طہارت کبرٰی نوشۃ است نونے نماز میگزاردہم دراثنائے صلاۃ حائضہ شد نماز قطع کندپس اگر نماز فرض بود بعد طہارت قضایش واجب نبود واگر نفل بود قضا واجب آید۔ بینوا توجروا۔
اللہتعالٰی آپ کو اپنی رحمت سے نوازے ، اس مسئلہ میں آپ کی کیارائے ہے ، رسالہ “ طہارتِ کبرٰی “ میں لکھا ہے : “ کوئی عورت نماز پڑھ رہی ہو اور نماز کے دوران اسے حیض آجائے تو وہ نماز توڑدے پھر اگر وہ فرض نماز ہے تو حصولِ طہارت کے بعد اس کی قضا واجب نہ ہوگی اور اگر نفل نماز ہو تو واجب ہوگی۔ بیان کریں اجر پائیں۔ (ت)
الجواب :
دریں رسالہ اگرچہ بس یار جاخطا سرزدہ اماایں مسئلہ درست نوشتہ است فمثلہ فی البحر والدر و غیرھما من الاسفار الغرّ وجہش انچہ
اس رسالے میں اگرچہ بہت جگہ غلطی واقع ہوئی ہے تاہم یہ مسئلہ صحیح لکھا گیا ہے اسی کی مثل البحرالرائق ، درمختار اور ان کے علاوہ عمدہ کتب میں منقول ہے ، کہ ایں وقت بخیال میرسد آنست کہ نماز اگرچہ نفل باشد بشروع واجب گردد واگرقبل ازاتمام فسادےرونماید قضا لازم آید اما ایں حکم حکم شروع قصدی ست پس اگر کسے مثلًا نماز ظہر گزرا دہ فراموش کردوباز عقدش بربست پیش ازفراغ بیادش آمد ہمچناں بشکست قضا بردلازم نیست کہ ایں شروع بربنائے ظن غلط بودہمچناں چوں زن راحیض رسید پیداشد کہ نمازایں وقت برو واجب نبود وظن وجابے کہ بربنایش آغاز کردہ بود غلط برآمد ز یراکہ نزد مااعتبار مراآخر وقت راست کمانصوا علیہ پس قضا لازم نیا یدبخلاف نفل کہ شروع دروے نہ بظن وجوب بودونہ عروض حیض درآخر وقت مانع تنفل در اول ست پس شروع دروے صحیح بودچوں فاسد شدقضا واجب آمد۔ واللہتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ اس کا سبب جو اس وقت خیال میں آرہا ہے یہ ہے کہ نماز اگرچہ نفل ہو شروع کرنے سے واجب ہوجاتی ہے اگر تکمیل سے پہلے کوئی فساد ظاہر ہو تو قضا لازم ہوگی لیکن یہ حکم اس نماز کا ہے جسے قصدًا شروع کیا ہو۔ لہذا اگر کوئی شخص نمازِ ظہر اداکرکے بھُول گیا ہو پھر اس کی نیت کرلی لیکن فارغ ہونے سے پہلے یاد آگیا اور اسی حالت میں نماز توڑدی تو اس پر قضا لازم نہیں ہوگی کیونکہ یہ شروع کرنا غلط گمان کی بنیاد پر تھا۔ اسی طرح جب عورت کو حیض آ یا تو اس وقت کی نماز اس پر فرض نہ تھی اس نے فرض خیال کرتے ہوئے شروع کردی تھی تو یہ خیال غلط ثابت ہوا کیونکہ ہمارے نزدیك آخر وقت کا اعتبار ہے جیسے فقہاءِ کرام نے بیان فرما یا لہذا قضا لازم نہیں ہوگی بخلاف نفل کے کہ وہ نہ تو واجب سمجھ کر شروع کئے اور نہ ہی آخر وقت میں حیض کا شروع نفل پڑھنے سے مانع ہے لہذا نوافل کا شروع کرنا صحیح تھا جب فاسد ہوگئے تو قضا واجب ہوگئی۔ اللہتعالٰی خوب جانتا ہے اور اس بزرگ وبرتر ذات کا علم سب سے ز یادہ مکمل اور مستحکم ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۴۳ ۴ صفر مظفر ۱۳۱۲ھ
ایك مسمّاہ کو بوجہ عارضہ چند سال سے حبس طمث تھا بالکل ادرار مسدود تھا اگرچہ مقتضائے عمر نہ تھا پھر جب دوا ہوئی باعانت دوا اجرائے دم ہوا ہے ایسی حالت میں نماز ترك کی جائے یا ادا کی جائے۔ بینوا توجروا
الجواب :
جب تك دم آئے نماز ترك کی جائے ، ہاں اگر دس۱۰ روز کامل سے آگے بڑھے تو غسل کرکے پڑھنا شروع کریں اور وہ پچھلا طمث جس کے بعد احتباس ہوگیا تھا اگر دس۱۰ دن آ یا تھا تو خیر ورنہ جب یہ دن دس سے بڑھے تو وہ جتنا دس سے کم تھا اُتنے دنوں کی نماز قضا کی جائے مثلًا وہ چھ۶ روز کا تھا تو چار۴ دن کی نماز قضا کریں اور چار کا تو چھ کی وعلی ھذا القیاس والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۴ : از جالندھر محلہ راستہ متصل مکان ڈپٹی احمد جان صاحب مرسلہ محمد احمد خان صاحب ۲۔ شوال ۱۳۱۴ھ۔
عورت حالت حیض اور نفاس میں مراقبہ جیسا کہ طریقہ نقشبندیہ میں دستور ہے کرسکتی ہے یا نہیں اور اسی حالت میں بیٹھ کر مرشد سے توجہ لے سکتی ہے یا نہیں؟ بحوالہ کتاب مع عبارت ارقام فرمائیں۔
الجواب :
ہاں اُمّ المومنین صدیقہ بنت الصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما فرماتی ہیں :
کان رسول الله صلی الله علیہ وسلم یذکر الله علٰی کل احیانہ [1] رواہ الامام احمد ومسلم وابوداو ، د والترمذی وابن ماجۃ۔ “
رسول اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ہر وقت اللہتعالٰی کا ذکر فرماتے تھے “ ۔ اس (حدیث) کو امام احمد ، مسلم ، ابوداؤد ، ترمذی اور ابن ماجہ رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی نے روایت کیا ہے۔ (ت)
رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :
ان المؤمن لاینجس [2] رواہ الستۃ عن ابی ھر یرۃ رضی الله تعالٰی عنہ۔
“ مومن ناپاك نہیں ہوتا “ اسے چھ ائمہ حدیث (اصحابِ صحاح ستّہ) نے حضرت ابوہر یرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کیا ہے۔ (ت)
دُرمختار میں ہے :
لاباس لحائض وجنب بقراء ۃ ادعیۃ ومسھا وحملھا [3] والله تعالٰی اعلم۔
حائضہ اور جنبی کے لئے دُعاؤں کے پڑھنے ، انہیں ہاتھ لگانے اور اٹھانے میں کوئی حرج نہیں۔ واللہتعالٰی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۴۵ : از علی گڑھ ۵۔ رمضان المبارك ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
سوال اوّل : ایك عورت کو آٹھ دن سے کم حیض ہوتا ہے سپیدی آجانے کے بعد بے نہائے اس سےصحبت کرنا جائز ہے یا نہیں؟ بینوّا توجّروا۔
الجواب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع