30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اترك الالتفات الی الکونین انك واصل الی جناب القدس [1]۔ |
یعنی نعلین سے ''دونوں جہان ''مراد ہیں انہیں اتار ڈالو یعنی ان کی طر ف التفات نہ کرو کہ تم بارگاہ قدس میں پہنچ گئے ۔ |
اقول:نعل قطع راہ میں معین ہوتی ہے اورمقصد اولیاء وصول بحضرت کبریا ہے اوردنیا آخرت دونوں اس راہ کی قطع میں معین ۔دنیا یوں کہ اس میں اعمال سبب وصول جنت ہیں،اور آخرت یوں کہ وہیں وعدہ دیدار ہے معہذا طالبانِ مولٰی لذات کونین کو زیر قدم رکھتے ہیں،جو زیر قدم ہو اسے نعل کہنا مناسب ہے ۔حدیث میں ہے:
|
الدنیا حرام علی اھل الاٰخرۃ والاٰخرۃ حرام علی اھل الدنیا،والدنیا والاٰخرۃ حرام علی اھل الله ۔رواہ الدیلمی [2]عن ابن عباس رضی ا لله تعالٰی عنہما۔ |
یعنی دنیا حرام ہے آخرت والوں پر اور آخرت حرام ہے دنیا والوں پر،اوردنیا وآخرت دونوں حرام ہیں الله والوں پر ۔ (اسے دیلمی نے ابن عباس رضی الله تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت) |
نیز نعل ''زوجہ ''کو کہتے ہیں کما فی القاموس وغیرہ [3](جیسا کہ قاموس وغیر ہ میں ہے ۔ت)اور دنیا وآخرت دونوں سوتیں ہیں۔ ؎
فان من جودك الدنیا وضرتھا ومن علومك علم اللوح والقلم[4]
کیونکہ دنیااورآخرت آپ کی بخششوں میں سے ہے اورلوح وقلم آپ کے علموں میں سے ہیں ۔ت)
اسی طرف اشارہ ہے ۔حدیث نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم میں ہے فرماتے ہیں:
|
من احب دنیاہ اضرباخرتہ ومن احب اخرتہ اضر بدنیاہ فأثروامایبقی علی مایفنی |
جو اپنی دنیا کو پیار کرے گا اس کی آخر ت کو نقصان ہوگا اور جو اپنی آخرت کو پیارا رکھے اس کی دنیا کو ضرر ہوگا تو باقی کو فانی پر ترجیح دو۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع