30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
توحاصل اعتراض یہ کہ اس حکایت میں حضرت خضر کی(جو ایك قول پر نبی تك ہیں)توہین کی کہ انہیں حضرت سلطان المشائخ کا خدمت گار اوروہ بھی ایسا کہ ان کی مجلس سماع کے حاضرین کی نعلین(جوتیوں)کا نگہبان بتایا۔
اس اعتراض پر بحکم شریعت وبپاس حمایت جانب محبوبان خدا جو جوابات حضور سیدی اعلٰی حضرت امام اہلسنت علامہ الحاج مولانا الشاہ مفتی عبدالمصطفٰی احمد رضا خاں صاحب فاضل بریلوی قدس سرہ نے تحریر فرمائے ملاحظہ ہوں۔
جواب اول :
اولیائے کرام قدست اسرارہم کو اس میں اختلاف ہے کہ یہ حضرت خضر جو اکثر اکابر سے ملاقی ہوتے ہیں آیا وہ خضر موسٰی علیہما الصلوۃ والسلام ہیں جن کی نبوت میں اختلاف ہے اورصحابیت میں شبہہ نہیں یا ہر دورے میں ایك ولی بنام خضر ہوتاہے یعنی مناصب ولایت سے ایك عہدے کا نام''خضر ''ہے کہ جو اس عہدے پر قائم ہوگا اسی نام سے پکاراجائے گا،جیسے غوث کا نام عبدالله وعبدالجامع اوراس کے دونوں ویزر دست چپ وراست کا نام عبدالملك وعبدالرب جن کو امامین کہتے ہیں اوراوتاد اربعہ کا نام عبدالرحیم وعبدالکریم وعبدالرشید وعبدالجلیل،یونہی جو عہدہ نقابت پر ہو اسے ''خضر ''کہا جائے گااس کا اپنا نام کچھ ہو۔ایك جماعت عظیم صوفیہ کرام اسی قول پر ہے اوربہت حکایات سے اس کا پتہ ملتاہے ۔حافظ الحدیث امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ الله علیہ نے اسی قول کی تائید کی،اصابہ فی تمییز الصحابہ''میں فرماتے ہیں:
|
قول بعضھم ان لکل زمان خضرا وانہ نقیب الاولیاء وکلما مات نقیب اقیم نقیب بعدہ مکانہ ویسمّی الخضر وھذا قول تداولتہ جماعۃ من الصوفیۃ من غیر نکیر بینھم ولا یقطع مع ھذا بان الذی ینقل عنہ انہ الخضر ھو صاحب موسٰی علیھما الصلوٰۃ والسلام بل ھو خضر ذٰلك الزمان ویؤیدہ اختلافھم فی صفتہ فمنھم من یراہ |
بعض اولیاء کا قول کہ ہرزمانے کے لیے ایك خضر ہوتاہے اوروہ نقیب اولیاء ہوتاہے،جب ایك نقیب کا وصال ہوجائے تو اس کی جگہ کوئی اورنقیب مقررکردیا جاتاہے جس کو خضر کہا جاتاہے ۔میں نےیہ قول صوفیاء کی ایك جماعت سے حاصل کیا۔ا س کے بارے میں ان سے کوئی اختلاف نہیں اس قول کی موجودگی میں اس پر یقین نہیں کیا جاسکتا کہ اعتراض میں منقول خضر سے مراد وہی خضر ہیں جو حضرت موسٰی علیہ السلام کے ساتھی ہیں ببَلکہ اس سے مراد اس زمانے کا خضر ہے اورصفت خضر کے بارے میں دیکھنے والوں کا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع