30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
|
اللھم لك الحمد لا یحصی احد ثناء علیك انت کما اثنیت نفسك فان حق الثناء بحق المعرفۃ ولا یحیط بکنہ الله وصفات الله وکمال الله وجمال الله و جلال الله الا الله و لذٰلك لما امرنا ان تصلی علٰی نبینا صلی الله تعالٰی علیہ وسلم رددنا الامر الیہ وکان امتثال امرہ بقولنا اللھم صل وسلم علیہ اذلا تضی بقدرہ العظیم الا صلوٰۃ ربہ الکریم۔اعلم ان لکل فعل یصدر من العبد و جہتین و جہتہ الی خالقہ عز وجل اذلا وجود لہ الا بہ و لیس للعبد من خلقہ شیئ ۔ووجہتہ الٰی کاسبہ اذمنہ ظہر باظھار المولٰی سبحانہ و تعالٰی وھٰذہ الاخری ھی مناط الاستناد العام لغۃ و عرفا و شرعا۔فلا یقال قام الا لمن قام بہ القیام لا لمن خلقہ لکن من الافعال مایصح صدورہ من الخالق عزوجل فیسوغ اسنادھا الیہ لارتفاع الایھام و الی العبد علٰی وجھہ العام |
اے الله :تیرے لئے تعریف ہے کوئی تیری تعریف کا احاطہ نہیں کرسکتا۔تو ایسا ہی ہے جیسا تو نے اپنی تعریف کی۔ تعریف کا حق معرفت کے بعد ادا ہوتا ہے اور الله تعالٰی کی ذات و صفات کی کنہ اور اس کے کمال،جلال کے سوائے خدا کے اور کون جان سکتا ہے اسی لئے تو جب الله تعالٰی نے ہمیں رسول الله صلی الله تعالےٰ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کو کہا تو ہم نے بات اسی کی طرف لوٹا دی اورحکم کی بجا آوری یوں کی کہ یا الله ! تو ہی اپنے رسول پر درود بھیج،اس لئے کہ ان کے شایان درود تو ان کا رب کریم ہی بھیج سکتاہے ۔جان لو کہ جو کام بھی بندے سے صادر ہوتاہے اس کی دو وجہیں ہیں:ایك رب تبارك وتعالٰی کی طرف کہ ہر شیئ کا خالق وہی ہے بندے کو خلق سے کوئی حصہ نہیں او رایك رخ کاسب کی طرف کیونکہ وہ فعل خدا کی قدرت سے اسی بندہ سے ظاہر ہوا۔عام طور پر افعال کی نسبت کی بنیاد شریعت،نعت اورعرف عا م میں یہی آخری وجہ یعنی اکتساب کی ہے ۔توقیام کے خالق کے لیے قام نہیں کہا جائے گا اس کے مباشر کے لیے کہا جائے گا لیکن بعض افعال ایسے ہیں کہ ان کا صدور رب تبارك وتعالٰی سے بھی ہوتاہے تو اس کی نسبت رب اوربندے دونوں کی طرف ہو سکتی ہے جس کو ہم نے اسناد عام سے تعبیر کیاکیونکہ یہاں کسی قسم کا ایہام پیدا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع