30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کہ چرا راہ ایشاں نمی سپری،واز اتفاق دامن کشاں میگذری، حدیث خواہی ؟ حدیث حاضر،نقول جوئی ؟ نقول ظاہر،دلیل طلبی؟دلیل موجود،نقیض جوئی؟ نقیض مفقود،باز کدامیں سنگ در رہ،وکبك در موزہ است کہ جائے تسلیم سبزمے بینم، وروئے خلاف سرخ،وچہرہ انصاف زرد،وجبین قر طا س زنا گفتنیہا سیاہ،عیاذم بخدائے مگر آنکہ مصطفے را صلی الله تعالٰی علیہ وسلم از نور خود ش آفرید،ومہر نیم روز و ماہ نیم ماہ را کینہ گدائے سرکار ش گر د انید،نتواند کہ سر و جانفزائے مارا بے سایہ پرورد،و شاخ گلے کہ ہزار چمنستان جاں فدائے ہر رگ و بر گ او باد،از گل ز مین لطا فت،بر جو ئبارنظافت،پاك از ہمہ کثافت سر براورد۔
وصلی الله تعالٰی علیہ وعلی آلہ قد رحسنہ وجمالہ وجاھہ وجلالہ وجودہ ونوالہ وعزہ و کمالہ ونعمہ و افضالہ ورشدہ فی افعالہ وجہد ہ فی اعمالہ وصدقہ فی اقوالہ وحسن جمیع خصالہ ومحمودیۃ فعالہ وعلینا معشرالملتثمین لنعالہ والمتعلقین باذیالہ |
کی ٹو پی سر سے اتا ر،کیوں ان ائمہ کرام کی راہ پر نہیں چلتا اور اتفاق سے دور کیوں بھاگتا ہے حدیث مطلوب ہے تو حاضر، اگر نقول چاہئیں تو نقول واضح ہیں،دلیل کی طلب ہے تو دلیل موجود،لیکن اگر نقیض کی خواہش ہے تو وہ معدوم ہے۔ تو اب کون سا پتھر راستہ میں پڑا ہے،کیوں تسلیم کا مقام خالی دیکھتا ہوں،خلاف کا چہرہ خوش،انصاف کا چہرہ شرم وحیاء سے زرد،اور کا غذ کی پیشانی شرمناك باتوں سے سیاہ،خدا کی پناہ! لیکن قادر مطلق جل وعلا جس نے مصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کو اپنے نور خاص سے پیدا فرمایا اور خور شید در خشانندہ وبد ر درخشندہ کو ان کی سرکار کا ادنی گداگر بنایا،کیا وہ یہ نہیں کر سکتا کہ ہمارے سر وِ جانفزا کو بغیر سایہ کے پرورش فرمائے اور وہ شاخ گل جس کے ہر رگ وبرگ پر ہزاروں چمنستان قربان ہوں،پاکیزگی کہ نہر پر گل زمین لطافت سے،ہر قسم کی کثافت سے پاك پیدا ہو۔ اور دورد نازل فرمائے الله تعالٰی آپ پر اور آپ کی آل پر جس قدر آپ کا حسن،جمال،مرتبہ،بزرگی،فیاضی،عطا،عزت، کمال،نعمتیں، نوازش،افعال میں رشد،اعمال میں محنت، اقوال میں سچائی،تمام خصلتوں میں حسن اور عادات میں پسندیدگی ہے،اور ہم پر بھی جو آپ کے نعلین مبارك کو بوسہ دینے والے اور آپ کے دامن کو تھامنے والے ہیں۔اے معبود برحق |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع