30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وزنہاررندانی کہ ایں بال وپرے کہ مے فشانم از انت کہ حدیث راضعیف میدانم بَلکہ برتصانیف امامِ حجت سیدنا عبدالله بن مبارك وقوف نیافتہ ام ورنہ گمان نہ آنچناں ست کہ مخالف راجائے شادی باشد۔
سیدی عبدالله از اعاظم ائمہ وتبع تابعین است،غالب مشائخ ورجالش ہمیں تا بعین وصحابہ باشند،یا تبع کہ باایشاں در خور و آزمودن احوال شاں کرد،ودراں زماں چنانکہ دانی غالب عدالت بو د،ولہذا استا ذش سیدنا امام اعظم رضی الله تعالٰی عنہ بہ اصالت عدالت قائل شدہ است،وخود ایں ناقدین کہ تلقی بالقبول کر دہ اند مگر بدمی بری کہ نا دیدہ راہ رفتہ اند۔
جان برادر ! تو وایمان تو ایں ہمہ ائمہ اولی الا ید ی والابصار کہ یك زبان بر نفی ظل گواہی دہند،پناہم بخدائے اگر سخن یکے ازیناں یا امثال ایناں بر طبق مزعوم خود ت یا بی چہ غلغلہا کہ نکنی وکلہ بر آسماں افگنی وبر خویشتن بالی وپیش ہر کسے نالی کہ ہے انچہ ستم ست،امامے چناں از نفی ظل بر کراں وفلانے تن نمی دہد،وگوش نمی نہد،حالیاکہ ستم از تست خدارا دمے نصاف دہ وکلاہ غروررا از سرہنہ، |
اوریہ ہرگزنہ سمجھیں کہ میں نے اتنی تفصیلی گفتگواس لئے کی ہے کہ حدیث کوضعیف جانتاہوں بَلکہ امامِ حجت سیّدنا عبدالله بن مبارك کی تصانیف سے واقف نہیں ہوں ورنہ اس طرح گمان نہیں کہ مخالف خوش ہو۔
سید ی حضرت عبدالله بن مبارك عظیم ترین اماموں اور تبع تابعین سے ہیں،ان کے اکثر مشائخ یہی تابعین وصحابہ ہیں یا تبع اور ان کے کوائف وحالات کی اچھی طرح جانچ پڑتا ل کی، اور جس طر ح کہ تم خود جانتے ہو اس زمانہ میں عدالت غالب تھی،اسی وجہ سے ان کے استا د سیدنا امام اعظم رضی الله تعالٰی عنہ اصل عدالت کے قائل ہیں اور خود ناقدین نے تلقی بالقبول کی ہے اور ان کا یہ تلقی بالقبول کا اقدام پوری دیا نتداری اور کامل انشراح صدر کے ساتھ ہے،اندھی تقلید نہیں ہے۔ جان برادر ! یہ جو تمام ائمہ کرام بیك زبان نفی ظل کی گواہی دیتے ہیں،اگر ان میں یا ان کے ہمسر ائمہ سے کوئی بات تو اپنے مزعومہ کے مطابق پاتا تو وہ کون سا شور جو بر پا نہ کرتا،کلہ آسمان پرچڑھاتا اور پھولانہ سماتا،ہر ایك کے آگے آہ وزاری کرتا کہ ہائے یہ کیا ظلم ہے،ایسا امام نفی ظل کا قائل نہیں،نہ اس کو قبول کرتا ہے نہ اس کی طر ف کان لگاتا ہے لہذا اس وقت ظلم تیری طر ف سے ہے،خدا را انصاف کر اور تکبر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع