30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ظل دخان ست،نہ سایہ نیّراں۔
قولہ وگاہے ازابتدائے خلقت الخ۔ اقول:ہمچنیں ست واطلاق دلائل مارا بسند،ہر کہ ابدائے تخصیص کند مدعی اوست وبارثبوت برگردن او،شاید برعکس نفس الامر از دستیاری قوت واہمہ در آئنہ تخیل عزیز اں مرتسم شدہ باشد کہ بایں تنصیص عویص نافیان ظل رادر اثبات نفی گونہ صعوبتے روئے خواہد نمود کہ تبیین دائمہ از تفریر مطلقہ عامہ مشکل تراست،اما ندانستہ کہ ذہن سامع در ہمچو مقام از سلب ناموقت جز بادامت سلب تبادرکند، وخلافش کہ خلاف ظاہر ست محتاج بہ دلیل باشد،واظلا ل سحب راکہ علماء غیر دائم گفتہ اندازیں ہت ست کہ احادیث صحیحہ بہ سایہ کردن صحابہ کرام باردیہ خود شان ومیل اشجار بہ غصون آنہا برسر حضور سید الانس والجان صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ناطق شدہ،اینجا نیزاگر حدیثے معتمد بر ثبوت سایہ گواہی دہد آنگاہ از دوام سلب بہ سلب دوام نقل وعدول،متصور ومعقول،ورنہ از معرض قبول بمر احل معزول،معہذا نورانیت جسم انور اکرم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بحمدالله قاطع وساوس وقامع ہوا جس آمدہ ست، |
اصل حقیقت نہ سمجھ سکے کہ یہ نظر آنے والا سایہ سایہ دخان ہے،آگ کا سایہ نہیں۔ قولہ کبھی ابتدائے آفرنیش سے الخ اقول:یہی صحیح ہے اورہمارے لئے اطلاق دلائل دلیل کافی ہے،جو شخص تخصیص کرتاہے وہ مدعی ہے اوربارثبوت اس کی گردن پر،شاید نفس الامر کےخلاف قوت وبہمیہ کی مدد سے ان کے آئینہ تخیل میں یہ بات آئی ہوگی کہ اس مطالبہ تنصیص سے نافیان ظل کے لئے اثبات نفی میں بہت مشکلات پیش آئیں گی کیونکہ دائمہ کا اثبات مطلقہ عامہ کے اثبات سے بہت زیادہ مشکل ہے مگر وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ سامع کا ذہن ایسے مقامات میں سلب غیر موقت سے سلب دوامی چھوڑ کر کسی بھی اورشے کی طرف متوجہ نیں ہوا اوراس کا خلاف جو خلاف ظاہر ہے وہی محتاج دلیل ہے۔اور(آپ پر) بادلوں کے سایہ کو علماء نے اس لئے غیر دائمی فرمایا کہ صحابہ کرام کا چادر وں سے اوردرختوں کا اپنی شاخین جھکا کر سایہ کرنا سرکار دوعالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے سر انور پر،احادیث صحیحہ سے ثابت ہوچکا ہے،اگراس مسئلہ میں بھی کوئی معتمد حدیث گواہی دے تو اس وقت دوام سلب سے سلب دوام کی طرف عدول متصو ومعقول ہوگا ورنہ معرض قبول سے کوسوں دور،اور اس کے ساتھ ہی نبی اکرم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے جسم انو رکی نورانیت بحمدالله قاطع وساوس وقامع ہوا جس آئی ہے، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع