30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
معلوم است کہ ازیں قسم زین وشین جز درمبصرات راست نیاید،بادرانہ از پوشاك مہوشاں زریں کمر زینتے،نہ از خرقہ گدایاں دلق دربروصمتے،بَلکہ اگر نیکو بنگری دراجسام کثیفہ نیز عموم بجائے خود نیست،کہ میان حجب وکثافت عموم وخصوص مطلق ست،جسم مثلث اگرچند کثیف باشد سایہ ندارد،نہ درآفتاب،نہ در ماہتاب،کہ بہ ہمیں معنے ایمائے لطیف فرمودہ اندر درکریمہ" اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰی ظِلٍّ ذِیۡ ثَلٰثِ شُعَبٍ ﴿ۙ۳۰﴾ لَّا ظَلِیۡلٍ وَّ لَا یُغْنِیۡ مِنَ اللَّہَبِ ﴿ؕ۳۱﴾"[1]کما استنبطہ الامام العلامۃ السیوطی فی تفسیر الاکلیل فی استنباط التنزیل [2]
اللھم !مگر شبہا دیدہ باشند کہ از شعلہ شمع باآنکہ نارجرمے لطیف ست سایہ سربرمے زند وبحکم عدم فارق دست بدامن اطلاق زدند، وپے باصل کا رنبردہ کہ آنچہ مے بینند |
معلوم ہے کہ اس قسم کی زینت وعیب مبصرات کے سواکسی چیز پر صادق نہیں،مثلاکوئی کیسا ہی مہ رو ز رق برق لباس پہن کر سنہری کمر بند باندھے ہوا میں کھڑا ہوجائے تو ہوا کے لئے وہ زینت نہیں کہلات اوراگرکوئی منگتا پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے ہوتو وہ ہواکیلئے عیب نہیں کہلاتا(کیونکہ ہوا مبصرنہیں)بَلکہ اگر بغور دیکھیں تو اجسام کثیفہ میں بھی عموم نہیں کیونکہ حاجب بننے اورکثیف ہونے میں عموم وخصوص مطلق ہے،چنانچہ جسم مثلث کا سایہ نہیں ہوتا خواہ کتانا ہی کثیف ہو نہ دھوپ میں نہ چاندنی میں،آیہ کریمہ " اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰی ظِلٍّ ذِیۡ ثَلٰثِ شُعَبٍ ﴿ۙ۳۰﴾ لَّا ظَلِیۡلٍ وَّ لَا یُغْنِیۡ مِنَ اللَّہَبِ ﴿ؕ۳۱﴾"(چلواس دھوئیں کے سائے کی طرف جس کی تین شاخیں ہیں نہ سایہ دے نہ لپٹ سے بچائے)میں مفسرین کرام نے اسی معنی کی طرف لطیف اشارہ بیان فرمایا ہے کما استنبطہ الامام العلامۃ السیوطی فی تفسیر الاکلیل فی استنباط التنزیل (جیسا کہ امام علامہ سیوطی علیہ الرحمۃ نے تفسیر الاکلیل فی استنباط التنزیل میں اس کو مستنبط فرمایا ہے۔ یا الله !شاید انہوں نے رات کو دیکھا ہوگا کہ شعلہئ شمع سے سایہ پیداہوتاہے باوجودیکہ آگ جسم لطیف ہے اور اس سایہ کو آگ کا سایہ سمجھ کر بحکم عدم فارق(بین الاجسام اللطیفہ) دامن اطلاق پر ہاتھ مارا اور حکم کلی لگا دیا اور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع