30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کافی ربود،آں محروم رانیز پارہ از انجلاء ارزانی نمود۔ ایں ضوء ثانی راظل نامند ونیکو روشن کہ ایں معنٰی بے حجب، وحجب بے منع نفوذ،ومنع نفوذ بے کثافت صورت نہ بندد، واوفراہ اگرایں اطلاق راست باشد اشراق ارض محال گرددکہ میان فاعل وقابل جرم آسمان حائل،بَلکہ ہم از مدعا نقیض مدعا لازم آید کہ چوں جسمے ہمچو فلك درمیان سنت، استنارہ ہوا کہ مضیئ ثانی ست خود چہ امکان ست،پس ازروئے زمین تاسطح آسمان ہیچ جسمے راسایہ نباشد،والسالبۃ الجزئیۃ تناقض الموجوبۃ الکلۃ وتقییدمرئی بودن کہ حاجب نباشد مگر از مبصرات با آنکہ تخصیص بعدالاعتراض ست درامثال ہو اورنارجاری۔
امّا نامرئی بودن آسمان مسلم نداریم،واز شہادت بصر و ظواہر نصوص چراروئے برتابیم،مااسلامیاں راباخرافات فلاسفہ ناہنجار وافسانہ عالم نسیم وکرہ بخار چکار،وہمچو ادعاہائے نامنتظمہ راپیش ظواہر قرآن وحدیث چہ قیمت وکدام وقعت؟
قال الله تبارك وتعالٰی" وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصٰبِیۡحَ"[1]و |
محروم کو بھی روشنی کا کچھ حصہ عطاکیا۔ اس دوسری روشنی کو ظل کہتے ہیں اورخوب ظاہر کہ یہ معنٰی بے پردہ اورپردہ بلامنع نفوذ اورمنع نفوذ کثافت کے سوا ناممکن ہے۔ہائے زیادتی !اگر یہ اطلاق درست ہوتو زمین کاروشن ہونا محال ہوجائے،اس لئے کہ سورج اورزمین کے درمیان جسم آسمان حائل ہے بَلکہ تمہارے دعوٰی سےہی تمہارے مدعی کی نقیض لازم آتی ہے کہ جب آسمان جیسا جسم درمیان ہے تو ہوا جو ثانوی درجہ میں روشن ہے،کیسے ممکن کہ روشن ہو،لہذا روئے زمین سے آسمان جیسا جسم درمیان ہے تو ہوا جو ثانوی درجہ میں روشن ہے،کیسے ممکن کہ روشن ہو،لہذا روئے زمین سے آسمان تك کسی جسم کا سایہ نہ ہو والسالبۃ الجزئیۃ تناقض الموجبۃ الکلیۃ(اورسالبہ جزئیہ موجبہ کلیہ کی نقیض ہے۔ت)اور چونکہ جو چیزیں نظر آتی ہیں وہی پردہ بنتی ہیں اس لئے مرئی ہونے کی قید لگانا،باوجودیکہ بعد از اعتراض ہے صرف ہو ا اور آگ جیسی اشیاء میں جاری ہے۔ بہر حال آسمان کا غیر مرئی ہونا ہم نہیں مانتے،ہم کیونکر عینی شہادت اورظاہر نصوص سے روگردانی کریں،ہم اہل اسلام کو بے راہ فسلفہ کی خرافات اورکرئہ ہوا وبخار سے کیا کام؟اورایسے بے سرپا دعاوی کی قرآن وحدیث کے ظاہر مفہومات کے سامنے کیا قیمت اورکیسی وقعت؟ الله تعالٰی نے فرمایا:اوربیشك ہم نے نیچے کے آسمان کو چراغوں سے آراستہ کیا۔اور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع