30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بخانہ مقصود از درنقیض آمدن ست،واستیناس نقد،بہ لباس اسد،خواستن،مگر ارشاد ائمہ بسند نیست،کہ دلیلے دیگر جوائی،یا ایں رابمنزل حضرت سلمٰی نمیر ودکہ بہ شعبے جدا گانہ پوئی۔من فقیر گمان برم وناراست نمی برم کہ ان شاء الله تعالٰی روئے توجہ بسوئے مقدمہ ثالثہ تحریر ثانی تافتن ہماں باشد،وایں وسوسہ را جواب شافی وعلاج کافی یافتن،ہماں،آخر نہ خدائکہ حضرات عالیہ ایشاں را برسررامامت وارائك زعامت جائے داد وبحکم الخراج بالضمان [1] ثقل تحمل اعبائے گرانبار " فَاعْتَبِرُوۡا یٰۤاُولِی الْاَبْصٰرِ ﴿۲﴾"[2]برذمت ہمت ایشاں نہاد و ضعف وناتوانی ماعامیان نادیدہ رودبدست کم دانشی گرودید و بفھوائے " اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا ؕ﴿۶﴾ "[3]و " وَمَا جَعَلَ عَلَیۡکُمْ فِی الدِّیۡنِ مِنْ حَرَجٍ ؕ "[4]خوان نعمت" فَسْـَٔلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکْرِ اِنۡ کُنۡتُمْ لَا تَعْلَمُوۡنَ ﴿ۙ۴۳﴾"[5]
|
مقلدین؟اگر ائمہ دین مراد ہیں تو پھر یہ خلاف مقصود کی طرف آنا اورلباس شیر میں انس نقد طلب کرنا ہے،کیا ائمہ کرام کا ارشاد ناکافی ہے کہ دوسری دلیل طلب کرتے ہویا ائمہ دین کایہ راستہ مطلوب تك نہیں پہنچتا،اس لئے علیحدہ پگڈنڈیوں پر بھٹکتے پھرتے ہو؟میں گمان کرتاہوں اوردرست گمان کرتاہوں کہ ان شاء الله تعالٰی توجہ کا رخ تحریر ثانی کے مقدمہ ثالثہ کی طرف ہی پھیرنا ہوگا اور تمہارے اس وسوسہ کا وہی جواب شافی وعلاج کافی ہوگا۔آخر خدا وند تعالٰی نے حضرات عالی شان کو امامت کے تختوں اورسرداری کی سندوں پر مقام عطا نہ فرمایا اور الخراج بالضمان (خراج ضمان کی وجہ سے ہوتاہے۔ت)کے فیصلہ کے مطابق" فَاعْتَبِرُوۡا یٰۤاُولِی الْاَبْصٰرِ ﴿۲﴾ "(توعبرت لو اے نگاہ والو۔ت)کے چراغوں کا بوجھ برداشت کرنا اور ان کے ذمہ ہمت پر نہ رکھا؟ اورہم نادیدہ رو کی کمزور کو اورکم علمی کے ہاتھ گروی شدگان کو نہ دیکھا اور بہ مقتضائے " اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا ؕ﴿۶﴾ " (بے شك دشواری کے ساتھ آسانی ہے۔ت)اور " وَمَا جَعَلَ عَلَیۡکُمْ فِی الدِّیۡنِ مِنْ حَرَجٍ ؕ "(اور تم پر دین میں کچھ تنگی نہ رکھی۔ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع