30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فاذا اعتید صار من الکبائر،و ھذا جھل عظیم لا یساعد نقل و لا عقل نسأل الله العفو و العافیۃ ۔ |
میں ذکر کیا کہ مکروہ تنزیہی بھی گناہ صغیرہ ہے جو تکرار و اعادہ سے کبیرہ ہو جاتا ہے یہ بہت بڑی جہالت ہے جس کی موافقت نہ تو عقل کرتی ہے نہ ہی نقل ۔ہم الله تعالٰی سے معافی اور سلامتی کا سوال کرتے ہیں ۔(ت) |
تو ان دونوں حکموں میں بھی اصلا تنافی نہیں ۔ہاں فتوی لکھنویہ نے کہ خلط کو مکروہ تحریمی ٹھہرایا وہ ضرور حکم تاج الفحول قدس سرہ الشریف کے خلاف اور غلط و باطل عند الانصاف ہے ۔والله تعالٰی اعلم
مسئلہ حضرات سادات کرام
فاش میگویم و از گفتہ خود دلشادم بندہ عشقم و از ھر دو جہاں آزادم
(میں کھل کر بات کرتاہوں اور اپنے کہے ہوئے پر میرا دل خوش ہے،میں عشق کا غلام ہوں اور دونوں جہانوں سے آزاد ہوں ۔ت)
سادات کرام(جعلنا الله تعالٰی فی الدنیا و الاخرۃ من موالیھم فان مولی القوم منہم،الله تعالٰی ہمیں دنیا و آخرت میں ان کے غلاموں میں رکھے کیونکہ کسی قوم کا آزاد کردہ غلام اسی قوم سے شمار ہوتا ہے ۔ت)پر عدم طریان کفر(کہ اسی قدر کا فقیر مدعی)نہ عدم امکان جس سے حبیبی آپ نے تعبیر کیا،اور رفض و نیچریت کی میں نے نفی کی تصریح کر دی کہ اس سے وہی بد مذہبی مراد جس میں انکار بعض ضروریات دین ہو اس کا حاصل بھی وہی سلب کفر ہے نہ سلب بدعت غیر کفریہ جو آپ کی تعبیر میں عطف سے موہوم ہیں خصوصا وغیرہ کی زیادت کہ اور توسیع کی راہ دے کما عبرتم کہ ان پر طریان کفر ناممکن نہ یہ رافضی نیچری وغیرہ ہو سکیں فقیر بحمدہ تعالٰی اس مسئلہ میں مبتدع نہیں متبع ہے،اس کا بیان جزا ء الله عدوہ میں ضمنا آیا لہذا اختصار سے کام لیا ص۱۰۱سے۱۱۶ تك جو کچھ کلمات مختصرہ معروض ہوئے ہیں ان پر دوبارہ نظر فرمائیں تو بعونہ تعالٰی ان تمام شبہات کا جواب ان میں پائیں۔آیت و احادیث کہ فقیر نے ذکر کیں اس میں شك نہیں کہ ضرور عام و مطلق ضرور اپنے عموم و اطلاق پر رہیں گے جب تك دلیل صحیح سے تخصیص و تقیید نہ ثابت ہو ۔اور شك نہیں کہ بلا دلیل محض اپنے خیال کی بناپر ادعائے تخصیص و تقیید ہر گز تحقیق نہ قرار پاسکے گا ببَلکہ تفسیق ۔اور شك نہیں کہ مسئلہ باب مناقب سے ہے نہ باب فقہ سے جو افعال مکلفین من حیث الحل و الحرمۃ و الصحۃ والسقام عــــــہ سے باحث ہو۔اور جس میں بے معرفت دلیل
عــــــہ: وفی الاصل "الصہام"۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع