30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الرابع مو الموقف الخامس فی الامامۃ و مباحثہا لیست من اصول الدیانات و العقائد خلافا للشیعۃ [1]اھ |
مصدر رابع امامت میں ہے امامت کی بحث اصول عقائد دین میں سے نہیں ہے بخلاف شیعوں کے(کہ ان کے نزدیك اصول دین سے ہے)اھ ت) |
کیا یہ قاعدہ مخترعہ یہاں بھی اہتمام ضروی نہ رکھے گا اور اقرار وانکار امات ائمہ کو یکساں کردے گا،ایران ومسقط کو مژدہ تہنیت،اب چین سے اپناکام کیجئے،خلافت راشدہ خلفاء اربعہ رضی الله تعالٰی عنہم میں شوق سے کلام کیجئے،تیرہ صدی کی برکت سنیوں کی ہمت،اب انہیں ان مباحث سے کام ہی نہ رہا۔حقیقت خلافت کا اہتمام ہی نہ رہا۔انا لله وانا الیہ راجعون(بے شك ہم الله تعالٰی کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طر ف پھرنا ہے۔ت)
فقیر کو حیرت ہے باوجود وتو افق عقول ونقل ودرود احادیث وشہادت ائمہ عدل وقتضائے خرد یمانی بحکم لطافت جرم نورانی وتاکید محبت سید اکرم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم قبول سے کیا چارہ اور ترك اصرار واہتمام کس کا یارا،اور یہ یہ بھی نہیں کھلتا کہ لفظ "ہر شخص"فرماکر عموم سلب سے سلب عموم کی طر ف کیوں ہوا؟ کیا بعض کو اہتمام ضروی بھی ہے ؟ اور ایسا ہو تو وہ بعض معین ہیں یا غیر معین ؟ بر تقدیر ثانی کلام،مقصود پر منعکس و منقلب ہوجائے گا اور تحرزا عن الوقوع فی المحذور ہر شخص کو اہتمام قرار پائے گا اور پہلی شق پرحکم احکم " لَتُبَیِّنُنَّہٗ لِلنَّاسِ"[2] (کہ تم ضرور اسے لوگو ں سے بیان کردینا۔ت) کاانقیاد ہو،اس تعین کی تبیین،پھر اس پر دلیل مبین ارشاد ہو۔
|
وصلی الله تعالٰی علیہ سیدنا محمد البدر وآلہ و اصحابہ النجوم والعلم بالحق عند الله ربنا تبارك و تعالٰی واھب العلوم استراح القلم من ھذا التنمیق الانیق فی العشرۃ الوسطی من ذی الحجۃ المحرم سنۃ ۱۲۹۷(سبع وتسعین بعد الالف و |
الله تعالٰی درود نازل فرمائے ہمارے آقا محمد صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر جو چودھویں کے چاند ہیں او رآپ کے آل و اصحاب پر جو روشن ستارے ہیں۔حق کا علم الله تعالٰی کے پاس ہے جو ہمارا پروردگار ہے اور علوم عطافرمانے والا ہے۔اس عمدہ تحریر کی تزیین سے قلم نے حرمت والے مہینے ذوالحجہ کے دمیان عشرے کے اندر ۱۲۹۷ ھ کو ایك ہی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع