30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور کبرے کہ جس کتاب کو محدثان اعلام نے معتبر نہ مانا ہوا س کی کوئی حدیث قابل احتجاج نہیں،ترك کردیا،پھر لکھا:'' مصنف نے التزام تصیح مافیہ نہیں کیا "
اور کبری کہ جس مصنف نے یہ التزام نہ کیا اس کی حدیثیں مستند نہیں،ذکر نہ فرمایا،پھر لکھا:
" کسی حدیث کی معتبر کتا ب میں الخ۔"
اور کبرے کہ جو مسئلہ کتب معتبر ہ حدیث میں نہ ہو،قابل تسلیم نہیں،چھوڑدیا۔پھر لکھا:
"اصرار بر عدم میں احتمال الخ"
اور کبری کہ جہاں یہ احتمال ہوا س میں تو قف ضرور اور تسلیم بے جا،تحریر نہ کیا۔اب اخیر درجہ یہ لکھا کہ:
"مسئلہ اصول عقائد سے نہیں۔"
اکبری کی طر ف ان لفظوں سے اشارہ کیا: "جس کے باب میں ہر شخص کو اہتمام ضرور ہو۔"
صاف کہا ہوتا کہ جو مسئلہ اصول عقائد سے نہیں،اس میں اہتمام کی کچھ حاجت نہیں۔سبحان الله ! ایك ذرا سے فقرہ میں تمام سائلہ فقہیہ کی بیخ کنی کردی کہ وہ بداہۃ فروح ہیں نہ اصول،پھر ان کا اتباع محل اہتمام سے معزول اور واجبات وسنن کا تو پتا نہ رہا کہ انہیں عقد قلب سے کب بہر ہ ملا،اب شاید بعد ورود اعتراض یہ تخصیص یاد آئے کہہ ہما رے کلام مسائل غیر متعلقہ بجوارح میں ہے
اقول:اب بھی غلط،متکلمین تصریح کرتے ہیں،مسائل خلافت اصول دینیہ سے نہیں، مواقف و شرح مواقف میں ہے:
|
(ولما تو فاہ)اشارہ الی مباحث الامامۃ فانہا وان کانت من فرو ع الدین الاانہا الحقت باصولہ دفعا للخرافات اھل البدع والاھواء وصونا للائمۃ المھتدین عن مطاعنہم(وفق اصحابہ لنصب اکرمہم و اتقہم) یعنی ابا بکر رضی الله تعالٰی عنہ[1]اھ ملخصًا۔ وفیہ من المصدر |
(شارح فرماتے ہیں) لما توفاہ امامت کی بحث کی طر ف اشارہ ہے،اگر چہ مسئلہ فروع دین سے ہے مگر اہل ہو اور بدعتیوں کے خرافات کو دفع کرنے کے لئے اورائمہ دین کو ان کے طعن سے بچانے کے لئے اصول دین سے ملحق کردیا(کہ تمام صحابہ کرام اپنے سے اتقی واکرم یعنی ابو بکر صدیق رضی الله تعالٰی عنہ کی امامت پر متفق ہوگئے۔)موقف خامس میں سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع