30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بولتے ہوں یا انہیں ورت واقعہ یا د نہ رہی ہو الی غیر ذلك من المفاسد التی لاتحصی(اس کے علاوہ بے شمار فساد لازم آئیں گے۔ت)غرض اس دو حرفی قاعدہ نے ایك عالم تہ وبالا کر ڈالا،دین ودنیا کا عیش تلغ کردیا۔
عزیز ا! یہ کہنا تو اس وقت روا تھا جب کوئی حدیث اس بارہ میں وارد نہ ہوتی،نہ کلمات علماء میں اس کا پتا چلتا،نہ وجود سایہ لطا فت ثابتہ کسی طر ف ترجیح نہ دیتی تو کہہ سکتے تھے کہ دلیل سے کچھ ثابت نہیں ہو تا اور ایك بات پر حکم حتمی میں احتمال نسبت غیر واقعی ہے اور مسئلہ اصول دین سے نہیں،نہ ہمارا کوئی عمل یا عقیدہ اس پر موقوف،پھر خواہ مخواہ خوض بیکار سے فائدہ ؟ من حسن اسلام المر ء ترکہ مالا یعنیہ[1] (کسی شخص کے اسلام کا حسن یہ ہے کہ وہ بے مقصد باتوں کو چھوڑدے۔ت)
ایسے ہی مقامات پر علماء محتاط سکوت وتو قف کرتے اور تعارج دلائل ذکر کر کے اسی قسم کے کلمات لکھ دیتے ہیں،امثال مسائل تفاضل نساء واثابت جنہ وحال اطفال اصحاب ضلال سے مجیب نے وہ لفظ سیکھ کر دیئے اورفر ق مبحثین پر نطر نہ کی،ہم زیادہ نہیں مانگتے ایك ہی جگہ دکھادیں کہ کوئی مسئلہ احادیث سے ثابت اور اقوال علماء سے نقل خلاف اس پر متظافر اور ایك حکم یقینی ایمانی مثل لطافت جسم نوارنی صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اسے مستلزم اور اس کے سبب عقل نورانی وحب ایمانی حقیقت مسئلہ پر حاکم ہو،پھر کسی عالم معتبر نے وہاں تو قف اختیار کیا ہو اور اصول دین سے نہ ہونے یا مخالفت واقع کے احتمال کو مانع تسلیم قرار دیا ہو ورنہ یہ نو تراشید ہ مضمون قابل تو بہ واستغفار ہے ربنا اغفرلنا وللمومنین جمیعا(اے ہمارے پروردگار ! ہمیں اورتمام مومنوں کو بخش دے۔ت)
قولہ مسئلہ اصولہ عقائد سے نہیں جس کے بات میں ہر شخص کو اہتما ضرور ہو۔
اقول:مجیب صاحب(سامحنا الله وایاہ بالعفو والمغفرۃ،الله تعالٰی عفو ومغفر ت کے ساتھ ہم سے اور اس سےدرگز فرمائے۔ ت)نے اس چار سطر کے جواب میں عجب تماشاکیا ہے کہ اکثر دلیلیں جو قائم کیں ان کے صغری کہ ظاہرا تسلیم تھے لکھتے گئے اور کبری کہ بدیہی البطلان تھے،مطوی فرماددیئے،مثلا لکھا:
"محدثین اعلام نے اس کتاب کو معتبر نہیں مانا ہے ۔"
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع