30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
صلی الله تعالٰی علیہ و سلم ما احدث النساء لمنعھن المساجد کما منعت نساء بنی اسرائیل[1]۔ |
رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم انھیں دیکھتے تو ان کو ایساہی مسجدوں سے روك دیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتیں روکی گئیں۔ |
یونہی دخول نساء فی الحمام کہ پردہ و ستر و عدم فتنہ کے ساتھ ہو تو فی نفسہ اصلا وجہ ممانعت نہیں رکھتا ببَلکہ طیب و نظافت میں داخل ہے:بنی الاسلام علی النظافۃ[2] (اسلام کی بنیاد صفائی پر رکھی گئی ہے ۔ت)مگر نظر بر حال کہ باہم کشف عورات کے عادی ہیں ۔
امام ابن ہمام وغیرہ اعلام نے فرمایا کہ سبیل اطلاق منع ہے،یہ حکم اسی قسم دوم کا ہے ۔بعینہ یہی لفظ آپ نے اس حکم میں پائے ہوں گے جو فقیر نے مسئلہ زیارت میں اختیار کیا ۔مجھے یاد نہیں کہ میں نے حرام لکھا ہو ببَلکہ غالبا تعلیم ادب کے ساتھ حلت کی طرف اشارہ کیا اور نظر بحال سبیل اطلاق منع بتایا ہے،آپ میرے فتوی کو ملاحظہ فرمائیں،مجھے اس وقت بارہ۱۲ بج کر دس۱۰منٹ آگئے اپنے مجموعہ سے نکالنے اور دیکھنے کی فرصت نہیں ۔
|
فظھر ان لا تعارض و ان الحکمین کلاھما صواب علیحدۃ و الله تعالٰی اعلم ۔ |
ظاہر ہو گیا کہ کوئی تعارض نہیں اور دونوں حکم علیحدہ علیحدہ درست ہیں ۔والله تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلۂ خطبۂ مختلطہ
بوجہ عدم توارث نامناسب ہونے کی نہایت کراہیت تنزیہی ہے کما نص علیہ فی حاشیۃ الطحطاویۃ و رد المحتار(جیسا کہ اس پر حاشیہ طحطاویہ اور ردالمحتار میں نص کی گئی ہے ۔ت)اور کراہت تنزیہی قسم مباح سے ہے وہ منافی جواز درستی و اباحت نہیں ببَلکہ اباحت کے ساتھ جمع ہوتی ہے۔
|
کما حققہ العلامۃ الشامی و لنا فی تحقیقہ مقالۃ سمیناھا "جمل محلیہ ان المکروھۃ تنزیھا لیس بمعصیۃ" اقمنا فیھا الطامۃ الکبری علی ما زعم اللکھنوی فی رسالتہ فی شرب الدخان ان المکروہ تنزیھا من الصغائر |
جیساکہ علامہ شامی نے اس کی تحقیق فرمائی ہے،اس مسئلہ کی تحقیق میں ہمارا ایك مقالہ ہے جس کا نام ہم نے "جمل محلیہ ان المکروھہ تنزیہا لیس بمعصیۃ" رکھا ہے اس میں ہم نے لکھنوی کے اس قول پر بڑی مصیبت قائم کی ہے جو اس نے شرب دخان(تمباکو نوشی)سے متعلق اپنے رسالہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع