30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
السمٰوٰت والارض جل جلالہ میں حاصل ہے۔دوسری محبت ایمانی کہ مستلزم خشوع کو اورمنافی جرأت وبیباکی،اوریہ ظاہر کہ جس قدر دربار والا میں حضوری زائد ہوتی۔
یہ دونوں امر جو اس پر باعث ہیں بڑھتے جاتے،حضو رکے اخلاق وعادات اوررحمت والطاف معائنے میں آتے،حسن واحسان کے جلوے ہر دم لطف تازہ دکھاتے،قرآن آنکھوں کے سامنے نازل ہوتا اور طرح طرح سے اس بارگاہ کے آداب سکھاتا اور ظاہر فرماتا کہ:
آداب بارگاہ:ہمارا ان کا معاملہ واحد ہے،جو ان کا گلام ہے ہمارا قائد ہے،انکے حضورآواز بُلند کرنے سے عمل حبط ہوجاتے ہیں، انہیں نام لے کر پکارنے والے سخت سزائیں پاتے ہیں،اپنے جان ودل کا انہیں مالك جانو،ان کے حضو رزندہ بدست مردہ ہو جاؤ،ہمارا ذکر انکی یاد کے ساتھ ہے،ان کا ہاتھ بعینہٖ ہمارا ہاتھ ہے،ان کی رحمت ہماری مہر،ان کا غضب ہمار اقہر،جس قدر ملازمت زیادہ ہوتی حضور کی عظمت ومحبت ترقی پاتی اور وہ حال مذکور یعنی خشوع وخضوع ورعب ہیبت روزافزوں کرتی قال تعالٰی " فَزَادَتْہُمْ اِیۡمٰنًا"[1]۔(الله تعالٰی نے فرمایا کہ آیات ان کے ایمان کو زیادہ کرتی ہیں۔ت)اور ایمان حضور کی تعظیم ومحبت کا نام ہے، کمالا یخفٰی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)
مقدّمہ ثانیہ:بسم الله الرحمن الرحیم ط پر ظاہر کہ آدمی بلا وجہ کسی بات کے درپے تفتیش نہیں ہوتااور جوبات عام وشامل ہوتی ہے او ر تمام آدمی اس میں یکساں کسی شخص خاص میں بالقصد اس کی طرف غور نہیں کرتا،مثلا ہر ہاتھ کی پانچ انگلیاں ہونا ایك امر عام ہے لہذا بلا سبب کسی آدمی کی انگلیوں کوکوئی شخص اس مقصد خاص سے نہیں دیکھتا کہ اس کی انگلیاں پانچ ہیں یا کم، ہاں اگر پہلے سے سن رکھا ہو کہ زید کی انگلیاں چار ہیں یا چھ تو اس صورت میں البتہ بقصد مذکور نظر کی جائے گی۔اسی طر ح سایہ ایك امر عام شامل ہے،اگر بعض آدمیوں کا سایہ پڑتا اور بعض کا نہیں تو البتہ بے شك خیال جانے کی بات تھی کہ دیکھیں حضور کے بھی سایہ ہے یانہیں،نہ اس سے کوئی امر دینی مثل اتباع واقتداء کے متعلق تھا کہ اس کے خیال سے بالقصد اس طر ف لحاظ کیا جاتا،ہاں ایسی صورت میں ادراك کا طریقہ یہ ہے کہ بے قصد وتوجہ خاص نظر پڑجائے اور وہ صورت بعد تکرر مشاہدہ ذہن میں منقش اور مثل مربیات قصد یہ کے خزانہ خیال میں مخزون ہوجائے،مثلا زید کہ ہمارا دوست ہے،ہم اپنے مشاہدے کی رو سے بتا سکتے ہیں کہ اس کے ہر ہا تھ کی انگلیاں پانچ ہیں اگر چہ ہم نے کبھی اس قصد سے اس کے ہاتھوں کو نہیں دیکھا ہے مگر ہم نے اس کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع