30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باکمال یا حضور کا مطالعہ افعال واعمال،تاکہ خود ان کا اتباع کریں اور غائبین تك روایت پہنچائیں کہ وہ حاملان شریعت تھے اور راویان ملت اورحاضری دربار اقدس سے ان کی غرض اعطم یہی تھی،جب نگاہ اس رعب وہیبت اوراس ضرورت وحاجت کے ساتھ اٹھے تو عقل گواہ ہے کہ ایسی حالت میں ادھرادھردھیان نہیں جائے گا کہ قامت اقدس کاسایہ ہمیں نظر نہ آیا،آخر نہ سنا کہ ایك ان کا نماز میں مصروف ہوتا،تکبیر کے ساتھ دونوں جہاں سے ہاتھ اٹھاتا،کوئی چیز سامنے گزرے اطلاع نہ ہوتی، اور کیسا ہی شوروغوغاہو کان تک آواز نہ جاتی یہاں تک کہ مسلم [1] بن یسار کہ تابعین میں ہیں نماز پڑھتے تھے،مسجد کا ستون گِر پڑا، لوگ جمع ہوئے،شور و غوغا ہوا،،انہیں مطلق خبر نہ ہوئی،یہی حالت صحابہ کی حضور رسالت میں تھی اور دربار نبوت میں بارگاہ عزت باری۔
اے عزیز ! زیادہ خوض بیکار ہے،تو اپنے ہی نفس کی طرف رجوع کر،اگر کسی مقام پر عالم رعب وہیبت میں تیرا گزرہوا ہو، وہاں جو کچھ پیش نظر آتا ہے اسے بھی اچے طور پر ادراك کا مل نہیں کرسکتا،نہ امر معدوم کی طرف خیال کیاجائے کہ مثلًا اگر تجھے کسی والی ملك سے ایسی ضرورت پیش آئے جس کی فکر تجھے دنیا ومافیہا پر مقد ہوا اوراس کے دربارتك رسائی کر کے اپنا عرض حال کرے تو تجھے اول تو رعب سلطانی،دوسرے اپنی اس ضرورت کی طرف قلب کو نگرانی ہر چیز کی طرف توجہ سے مانع ہوں گے۔پھر اگر تو واپس آئے اورتجھ سے سوال ہو وہاں دیواروں میں سنگ موسٰی تھا یا سنگ مرمر اورتخت کے پائے سِیمیں تھے یا زریں اورمسند کارنگ سبز تھا یا سرخ؟ہرگز ایك بات کا جواب نہ دے سکے گا بَلکہ خود اسی بات کو پوچھا جائے کہ بادشا ہ کا سایہ تھا یا نہ تھا،تو اگرچہ اس قیاس پر کہ سب آدمیوں کے لئے ظل ہے،ہاں کہہ دے مگر اپنے معائنے سے جواب نہ دے سکے گا۔
صحابہ رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم پر تو اول روز ملامت سے تاآخر حیات جو کیفیت رعب وہیبت کی طاری رہی،ہماری عقول ناقصہ اس کی مقدار کے ادراك سے بھی عاجز ہیں،پھر ان کی نظر اوپر اٹھ سکتی اورچپ وراست دیکھ سکتی کہ سائے کے عدم یا جود پر اطلاع ہوتی۔
ثمّ اقول:(پھر میں کہتاہوں۔ت)اپنے نفس پر قیاس کر کے گمان نہ کرنا چاہیے کہ بعد مرورزمان وتکررحضور کے،ان کی اس حالت میں کمی ہوجاتی بَلکہ بالیقین روز بہ روز زیادہ ہوتی کہ باعث اس پر دو۲ امر ہیں:ایك خوف کہ اس عظمت کے تصور سے پیدا ہوا جو اس سلطان دوعالم کو بارگاہ ملك
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع