30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ابتدروا اامرہ واذا توضأ کادو ایقتتلون علی وجوئہٖ و اذا تکلم خفضوا اصواتھم عندہ وما یحدون النظر الیہ تعظیما لہ فرجع عمروۃ الی اصحاب فقال ای قوم والله لقد وفدت علی الملولك قیصر و کسرٰی و النجاشی والله ان مارأیت ملکا قط یعظمہ اصحابہ ما یعطم اصحاب محمدصلی الله تعالٰی علیہ وسلم[1]۔ |
فرماتے تو وہ وضو کا پانی لینے پر لڑنے کے قریب ہوجاتے، اور جب گفتگوفرماتے تو صحابہ اپنی آوازیں پست کرلیتے اورآپ کی تعظیم کی وجہ سے آپ کی طرف نگاہ نہ کر پاتے تھے،تو وہ اپنے ساتھیوں کی طر ف لوٹ آیا اور کاہ میں قیصروکسرٰی و نجاشی کے درباروں میں آیا مگر ایسا کوئی بادشاہ نہ دیکھا جس کی تعظیم اس کے ساتھی ایسے کرتے ہوں جیسی محمد کی ان کے صحابی کرتے ہیں۔ |
اسی وجہ سے حلیہ شریف میں اکثر اکابر صحابہ سے حدیثیں وارد ہیں کہ وہ نگاہ بھر کر نہ دیکھ سکتے بَلکہ نظر اوپر نہ اٹھاتے کما سیأتی (جیسا کہ آگے آرہا ہے۔ت)بَلکہ اس معنٰی میں کسی حدیث کے ورود کی بھی حاجت کیاتھی،عقل سلیم خود گواہی دیتی ہے کہ ادنٰی ادنٰی نوابوں اور والیوں کے حاضرین دربار ان کے ساتھ کس ادب سے پیش آتے ہیں،اگرکھڑے ہیں تو نگاہ قدموں سے تجاوز نہیں کرتی،بیٹھے ہیں تو زانو سے آگے قدم نہیں رکھتے،خود اس حاکم سے نگاہ چار نہیں کرتے،پس وپیش یادائیں بائیں دیکھنا تو بڑی بات ہے حالانکہ اس ادب کو صحابہ کرام کے ادب سے کیا نسبت،ایمان ان کے دلوں میں پہاڑ سے زیادہ گراں تھا اور دربار اقدس کی حاضری ان کے نزدیك ملك السمٰوٰت والارض کا سامنااورکیوں نہ ہوتا کہ خود قرآن عزیز نے انہیں صدہا جگہ کان کھول کھول کر سنا دیا کہ ہمارا اورہمارے محبوب کا معاملہ واحدہے،اس کا مطیع ہمارا فرمانبردار اوراس کا عاصی ہمارا گنہگار،ان سے الفت ہمارے ساتھ محبت اوران سے رنجش ہم سے عداوت،ان کی تکریم ہماری تعظیم اوران کے ساتھ گستاخی ہماری بے ادبی، لہذا جب ملازمت والا حاصل ہوئی قلب ان کے خوف خدا سے ممتلی اورگردنیں خم اورآنکھیں نیچی اور آوازیں پست اور اعضاء ساکن ہوجاتے۔ایسی حالت میں نظراین وآں کی طرف کب ہوسکتی ہے جو سیاہ کے عدم یا وجود کی طرف خیال جائے اور بالضرور ایسے سراپا ادب،ہمہ تن تعظیم لوگوں کی نگاہ اپنے عرش پائے گا ہ کی طرف بے غرض مہم نہ ہوگی،اس حالت میں نفس کو اس مقصود کی طرف توجہ ہوگی،مثلًا نظارہ جمال
[1] صحیح البخاری باب الشروط فی الجہاد والمصالحۃ مع اہل الحرب الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۳۷۹،الخصائص الکبرٰی باب ماوقع عام الحدیبیۃ من الآیات مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند ۱/۲۴۰ و ۲۴۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع