30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تمہاری مدح وستائش اورجمال صورت وکمال سیرت ایسی تشریح وتوضیح سے بیان کروں گا کہ سننے والوں کے دل بے اختیار تمہاری طرف جھك جائیں اورنادیدہ تمہارے عشق کی شمع ان کے کانوں،سینوں میں بھڑك اٹھے گی۔ایك عالم اگر تمہارادشمن ہوکر تمہاری تنقیص شان اورمحو فضال میں مشغول ہوتو میں قادر مطلق ہوں،میرے ساتھ کسی کا کای بس چلے گا۔آخر اسی وعدے کا اثر تھا کہ یہود صدہا برس سے اپنی کتابوں سے ان کا ذکر نکالتے اورچاند پر خاك ڈالتے ہیں تو اہل ایمان اس بُلند آواز سے ان کی نعت سناتے ہیں کہ سامع اگر انصاف کرے بے ساختہ پکار اٹھے۔لاکھوں بے دینوں نے ان کے محو فضائل پر کمر باندھی،مگر مٹانے والے خود مٹ گئے اور ان کی خوبی روز بروز مترقی رہی،پھر اپنے مقصود سے تو یاس ونا امیدی کرلینا مناسب ہے ورنہ برب کعبہ ان کا کچھ نقصان نہیں،بالآخر ایك دن تو نہیں،تیرا ایمان نہیں۔
اے عزز !سلف صالح کی روش اخیتار کر اوران کے قدم پر قدم رکھ،ائمہ دین کا وطیرہ ایسے معاملات میں دائمًا تسلیم وقبول رہا ہے،جب کسی ثقہ معتمد علیہ نے کوئی معجزہ یا خاصہ ذکر کردیا اسے مرحبا کہہ لیا اور حبیب جان میں بہ طیب خاطر جگہ دی،یہاں تك کہ اگر اپنے آپ احادیث میں اس کی اصل نہ پائی،قصور اپنی نظر کا جانا،یہ نہ کہا کہ غلط ہے،باطل ہے،کسی حدیث میں وارد نہیں،نہ یہی ہوا کہ جب حدیث سے ثبوت نہ ملا تھا اس کے ذکر سے باز رہتے بَلکہ اسی طرح اپنی تصانیف میں اس کے ذکر سے باز رہتے بَلکہ اسی طرح اپنی تصانیف میں اس ثقہ کے اعتماد پر اسے لکھتے آئے،اورکیوں نہ ہو،مقتضٰی عقل سلیم کا یہی ہے کہ:
فائدہ جلیلہ:جب ہم اسے ثقہ معتمد عیہ مان چکے اور وقوع ایسے معجزے کا یا اختصاص ایسے خاصہ کا ذات پاك سرور عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے بعید نہیں کہ اس سے عجیب تر معجزات بہ تواتر حضور حضور سے ثابت،اوران کا رب اس سے زیادہ پر قادر، اوران کے لئے اس سے بہتر خصائص بالقطع مہیا اوران کی شان اس سے بھی ارفع واعلٰی،پھر انکار کی وجہ کیا ہے،تکذیب میں تو اس راوی سے ثقہ معتمد علیہ ہونا ثابت ہوچکا اور وثوق واعتماد اس کا بتاتا ہے کہ اگر من عند نفسہٖ کہہ دیتاخداوررسول پر مفتری ہوتا،
|
" وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللہِ کَذِبًا "[1]۔ |
اوراس سے بڑھ کر ظالم کو ن جو الله پر جھوٹ باندھے۔(ت) |
ان وجوہ پر نظر کرکے سمجھ لیجئے کہ بالضرور اس نے حدیث پائی،گوہماری نظر میں نہ آئی۔ہر چند کہ فقیر کا یہ دعوٰی اس شخص کے نزدیك بالکل بدیہی ہے جو خدمت حدیث وسِیَرمیں رہا اور اس راہ میں روشِ علماء
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع