30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جہاں آراء کا نظیر کہیں نہ ملے گااورخامہ قدرت نے اس کی تصویر بناکر ہاتھ کھینچ لیا کہ پھر کبھی ایسا نہ لکھے گا،کیسا محبوب،جسے اس کے مالك نے تمام جہان کے لئے رحمت بھیجا۔کیسا محبوب،جس نے اپنے تن پر ایك عالم کا بار اٹھالیا۔کیسا محبوب،جس نے تمہارے غم میں دن کاکھانا،رات کا سونا ترك کردیا،تم رات دن اس کی نافرمانیوں میں منہمك اورلہو ولعب میں مشغول ہو اور زوہ تمہاری بخشش کے لئے شب وروز گریاں وملول۔
شب،کہ الله جل جلالہ،نے آسائش کے لئے بنائی،اپنے تسکین بخش پر دے چھوڑے ہوئے موقوف ہے،صبح قریب ہے،ٹھنڈی نسیموں کا پنکھا ہو رہا ہے،ہر ایك کاجی اس وقت آرام کی طرف جھکتاہے،بادشاہ اپنے گرم بستروں،نرم تکیوں میں مست خواب ناز ہے اورجو محتاج بے نوا ہے اس کے بھی پاؤں دوگز کی کملی میں دراز،ایسے سہانے وقت،ٹھنڈے زمانہ میں،وہ معصوم،بے گناہ،پاك داماں،عصمت پناہ اپنی راحت وآسائش کو چھوڑ،خواب وآرام سے منہ موڑ،جبین نیاز آستانہ عزت پر رکھے ہے کہ الٰہی !میری امت سیاہ کارہے،درگزرفرما،اورانکے تمام جسموں کو آتش دوزخ سے بچا۔
جب وہ جان راحت کان رافت پیداہوابارگاہ الٰہی میں سجدہ کیا اور رب ھب لی امتی [1] فرمایا،جب قبر شریف میں اتارا لب جاں بخش کو جنبش تھی،بعض صحابہ نے کان لگا کر سنا آہستہ آہستہ امتی امتی [2] فرماتے تھے۔قیامت کے روز کہ عجب سختی کا دن ہے، تانبے کی زمین،ننگے پاؤں،زبانیں پیاس سے،باہر،آفتاب سروں پر،سائے کا پتہ نہیں،حساب کا دغدغہ،ملك قہار کا سامنا،عالم اپنی فکر میں گرفتارہوگا،مجرمان بے یار دام آفت کے گرفتار،جدھر جائیں گے سوا نفسی نفسی اذھبوا الی غیری[3] کچھ جواب نہ پائیں گے،اس وقت یہی محبوب غمگسار کام آئے گا،قفل شفاعت اس کے زور بازو سے کھل جائے گا،عمامہ سراقدس سے اتاریں گے اورسربسجود ہوکر "یارب امتی [4]"۔فرمائینگے۔
وائے بے انصافی !ایسے غم خوار پیارے کے نام پر جان نثار کرنا اورمدح وستائش ونشر فضائل سے اپنی آنکھوں کو روشنی اوردل کو ٹھنڈك دینا واجب یا یہ کی حتی الوسع چاند پر خاك ڈالے اوران روشن خوبیوں میں انکار کی شاخیں نکالے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع