30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جان ایمان وکان احسان،جسے اس کے مالك نے تمام جہان کے لئے رحمت بھیجا اوراس نے تمام عالم کا بارتن نازك پر اٹھالیا۔
تمہارے غم میں دن کاکھانا،رات کا سونا ترك کردیا۔تم رات دن لہو ولعب اور ان کی نافرمانیوں میں مشغول،اوروہ شب وروز تمہاری بخشش کے لئے گریاں وملول۔
جب وہ جان رحمت وکان رأفت پیداہوا بارگاہ الٰہی میں سجدہ کیا اور رب ھب لی امتی[1]۔(یا الله !میری امت کو بخش دے۔ت)
جب قبر شریف میں اتار الب جاں بخش کو جنبش تھی،بعض صحابہ نے کان لگا کر سنا،آہستہ آہستہ اُمّتی[2]۔(میری امت۔ت) فرماتے تھے،قیامت میں بھی انہیں کے دامن میں پناہ ملے گی،تمام انبیاء علیہم السلام سے نفسی نفسی اذھبوا الی غیری[3] (آج مجھے اپنی فکر ہے کسی اور کے پا س چلے جاؤ۔ت)سنو گے اوراس غمخوار امت کے لب پر یارب امتی[4](اے رب !میری امت کو بخش دے۔ت)کا شورہوگا۔
بعض روایات میں ہے کہ حضور ارشاد فرماتے ہیں:جب انتقال کروں گا صور پھونکنے تك قبر میں امتی امتی پکاروں گا۔کان بجنے کا یہی سبب ہے کہ وہ آواز جانگداز اس معصوم عاصی نواز کی جو ہروقت بُلند ہے،گاہے ہم سے کسی غافل ومدہوش کے گوش تك پہنچتی ہے،روح اسے ادراك کرتی ہے،اسی باعث اس وقت درود پڑھنا مستحب ہوا کہ جو محبوب ہرآن ہماری یا دمیں ہے،کچھ دیر ہم ہجراں نصیب بھی اس کی یاد میں صَرف کریں۔
وائے بے انصافی !ایسے غمخوار پیارے کے نام پر جاں نثارکرنا اوراس کی مدح وستائش ونشر فضائل سے آنکھوں کی روشنی،دل کو ٹھنڈك دینا واجب یا یہ کہ حتی الوسع چاند پر خاك ڈالے اوربے سبب ان کی روشن خوبیوں میں انکار نکالے۔
اے عزیز!چشم خرد بین میں سرمہ انصاف لگااورگوش قبول سے پنبہ اعتساف نکال،پھر یہ تمام اہل اسلام بَلکہ ہر مذہب وملت کے عقلاء سے پوچھنا،پھر اگر ایك منصف ذی عقل بھی تجھ سے کہہ دے کہ نشر محاسن وتکثیر مدائح نہ دوستی کا مقتضٰی نہ رد فضائل ونفی کمالات غلامی کے خلاف،تو تجھے اختیار ہے ورنہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع