30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
" قَدْ جَآءَکُمۡ مِّنَ اللہِ نُوۡرٌ وَّکِتٰبٌ مُّبِیۡنٌ ﴿ۙ۱۵﴾ "[1]۔ |
بتحقیق آیا تمہارے پاس خدا کی طرف سے ایك نور اورکتاب روشن۔ |
علماء فرماتے ہیں:نور سے مراد محمدمصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ہیں۔اسی طرح آیہ کریمہ" وَالنَّجْمِ اِذَا ہَوٰی ۙ﴿۱﴾"[2]۔(اس پیارے چمکتے تارے محمد کی قسم جب یہ معراج سے اترے۔ت)میں امام جعفر صادق اورآیہ کریمہ"وَ مَاۤ اَدْرٰىکَ مَا الطَّارِقُ ۙ﴿۲﴾ النَّجْمُ الثَّاقِبُ ۙ﴿۳﴾"[3]۔ (اورکچھ تم نے جانا وہ رات کو آنے والا کیاہے،چمکتا تارا۔ت) میں بعض مفسرین نجم اور النَّجْمُ الثَّاقِبُ ۙ﴿۳﴾سے ذات پاك سید لولاك مراد لیتے ہیں [4] صلی الله تعالٰی علیہ وسلم۔بخاری ومسلم وغیرہما کی احادیث میں بروایت ابن عباس رضی الله تعالٰی عنہما حضور سرورعالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے ایك دعا منقول جس کا خلاصہ یہ ہے:
|
اللھم اجعل فی قلبی نور اوفی بصری نورًا وفی سمعی نورًا وفی عصبی نور اوفی لحمی نورًا وفی دمی نورا وفی شعری نورا وفی بشری نورا وعن یمینی نور ا وعن شمالی نورا واما می نورا وخلفی نور ا وفوقی نورا وتحتی نورا واجعلنی نورًا[5]۔ |
الٰہی !میرے دل اور میری جان اورمیر ی آنکھ اورمیرے کان اورمیرے گوشت وپوست وخون واستخوان اورمیرے زیر وبالا وپس وپیش وچپ وراست اورہرعضو میں نور اورخود مجھے نور کردے۔ |
جب وہ یہ دعا فرماتے اوران کے سننے والے نے انہیں ضیائے تابندہ ومہر درخشندہ ونور الٰہی کہا پھر اس جناب کے نور ہونے میں مسلمان کو کیا شبہ رہا،حدیث ابن عباس میں ہے کہ ان کا نور چراغ وخوشید پر غالب آتا۔اب خدا جانے غالب آنے سے یہ مراد کہ
[1] القرآن الکریم ۵/۱۵
[2] القرآن الکریم ۵۳/۱
[3] القرآن الکریم ۸۶/۲و۳
[4] الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی الفصل الرابع دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/۳۰
[5] صحیح البخاری کتاب الدعوات باب الدعاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۹۳۵،صحیح مسلم کتاب صلٰوۃ المسافرین باب صلٰوۃ النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۲۶۱،جامع الترمذی ابواب الدعوات باب منہ امین کمپنی دہلی ۲/۱۷۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع