30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
علیہ وسلم صارنورا انہ کان اذا مشٰی فی الشمس اوالقمر لم یظھر لہ ظل لانہ لایظھر الالکثیف وھو صلی الله تعالٰی علیہ وسلم قد خلصہ الله من سائر الکثائف الجسمانیۃ وصیرہ نورا صرفا لایظھر لہ ظل اصلا [1]۔ |
جیسے ہمیں حکم ہوا کہ سورہ بقرشریف کے آخر کی دعا عرض کریں وہ بھی اسی اظہار وقوع وحصول فضل الٰہی کے لئے اور حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے نور محض ہو جانے کی تائید اس سے ہے کہ دھوپ یا چاندنی میں حضور کا سایہ نہ پیدا ہوتا اس لئے کہ سایہ تو کثیف کا ہوتاہے اورحضو رالله تعالٰی نے تمام جسمانی کثافتوں سے خالص کر کے نرانور کردیا لہذا حضور کے لئے سایہ اصلًا نہ تھا۔ |
علامہ سلیمان جمل فتوحات احمدیہ شرح ہمزیہ میں فرماتے ہیں:
|
لم یکن لہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ظل یظھر فی شمس ولا قمر[2]۔ |
نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کا سایہ نہ دھوپ میں ظاہر ہوتا نہ چاندنی میں۔ |
فاضل محمد بن فہمیہ کی "اسعاف الراغبین فی سیرۃ المصطفٰی واھل بیتہ الطاھرین"میں ذکر خصائص نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم میں ہے:
|
وانہ لافیئ لہ[3]۔ |
حضور کا ایك خاصہ یہ ہے کہ حضور کے لئے سایہ نہ تھا۔ |
مجمع البحار میں برمزش یعنی زبدہ شرح شفاء شریف میں ہے:
|
من اسمائہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم قیل من خصائصہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم انہ اذا مشٰی فی الشمس والقمر لایظھر لہ ظل[4]۔ |
حضور کا ایك نام مبارك"نور"ہے،حضور کے خصائص سے شمار کیا گیا کہ دھوپ اورچاندنی میں چلتے تو سایہ نہ پیداہوتا۔ |
[1] افضل القرٰی لقراء ام القرٰی(شرح ام القرٰی)شرح شعر ۲ المجمع الثقانی ابوظبی ۱/۱۲۸و۱۲۹
[2] الفتوحات الاحمدیۃ علی متن الہمزیۃ سلیمان جم المکتبۃ التجاریۃ الکبرٰی مصر ص۵
[3] اسعاف الراغبین فی سیرۃ المصطفٰی والہ بیتہ الطاھرین علی ھامش الابصار دارالفکر بیروت ص۷۹
[4] مجمع بحار الانوار باب نون تحت لفظ ''النور''مکتبہ دارالایمان مدینۃ المنورۃ ۴/۸۲۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع