30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نیك گمان کیاہوتا۔ت)فرماتے ہیں:
|
قال عثمان رضی الله تعالٰی عنہ ان الله مااوقع ظلك علی الارض لئلایضع انسان قدمہ علی ذٰلك الظل[1]۔ |
امیر المومنین عثمان غنی رضی الله تعالٰی عنہ نے حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی بے شك الله تعالٰی نے حضور کا سایہ زمین پر نہ ڈالا کہ کوئی شخص اس پر پاؤں نہ رکھ دے۔'' |
امام ابن حجرمکی افضل القرٰی میں زیر قول ماتن قدس سرہ: ؎
لم یساووك فی علاك وقدحا ل سنا منك دونھم وسناء[2]
انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام فضائل میں حضور کے برابر نہ ہوئے حضور کی چمك اوررفعت حضور تك ان کے پہنچنے سے مانع ہوئی۔
فرماتے ہیں:
|
ھذا مقتبس من تسمیتہ تعالٰی لنبیہ نورا فی نحو"قد جاء کم من الله نور وکتب مبین "وکان صلی الله تعالٰی علیہ وسلم یکثر الدعا بان الله تعالٰی یجعل کلا من حواسہ واعضائہ وبدنہ نورًا اظہار الوقوع ذٰلك وتفضل الله تعالٰی علیہ بہ لیز داد شکرہ وشکر امتہ علی ذٰلك کما امرنا بالدعاء الذی فی اٰخر سورۃ البقرۃ مع وقوعہ وتفضل الله تعالٰی بہ لذٰلك ومما یؤیدانہ صلی الله تعالٰی |
یعنی یہ معنٰی اس سے لئے گئے ہیں کہ الله عزوجل نے اپنے حبیب صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کا نام نور رکھا مثلًا اس آیت میں کہ بیشك تمہارے پاس الله کی طرف سے نور تشریف لائے اورروشن کتاب۔اورحضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بکثرت یہ دعا فرماتے کہ الٰہی !میرے تمام حواس واعضاء سارے بدن کو نور کردے۔اوراس دعاسے یہ مقصود نہ تھا کہ نور ہونا ابھی حاصل نہ تھا اس کا حصول مانگتے تھے بَلکہ یہ دعا اس امر کے ظاہر فرمانے کے لئے تھی کہ واقع میں حضور کا تمام جسم پاك نور ہے اوریہ فضل الله عزوجل نے حضور پر کردیا تاکہ آپ اورآپ کی امت اس پر الله تعالٰی کا زیادہ شکر ادا کریں۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع