30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چوں فنانش از فقر پیرایہ شود اومحمد داربے سایہ شود[1]
(جب اس کی فنا فقر سے آراستہ ہوجاتی ہے تو وہ محمدمصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی طرح بغیر سایہ کے ہوجاتاہے۔ت)
مولانا بحرالعلوم نے شرح میں فرمایا:
|
درمصرع ثانی اشارہ بمعجزئہ آن سرور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کہ آن سرور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم راسایہ نمی افتاد[2]۔ |
دوسرے مصرعے میں سرورعالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے معجزے کی طرف اشارہ ہے کہ آپ کا سایہ زمین پر نہیں پڑتاتھا۔(ت) |
امام علامہ احمد بن محمد خطیب قسطلانی رحمہ الله تعالٰی مواہب لدنیہ ومنہج محمدیہ میں فرماتے ہیں:رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے لئے سایہ نہ تھا دھوپ میں نہ چاندی میں۔اسے حکیم ترمذی نے ذکوان سے پھر ابن سبع کا حضور کے نور سے استدلال اورحدیث اجعلنی نورًا(مجھے نور بنادے۔ت)سے استشہادذکر کیا۔حیث قال(امام قسطلانی نے فرمایا۔ت):
|
لم یکن لہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فی شمس ولا قمر رواہ الترمذی عن ذکوان،وقال ابن سبع کان صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نورًا فکان اذا مشٰی فی الشمس اوالقمر لایظھر لہ ظل قال غیرہ ویشھد لہ قولہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فی دعائہ واجعلنی نورا[3]۔ |
دھوپ اورچاندنی میں آپ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کاسایہ نہ ہوتا۔اس کو ترمذی نے ذکوان سے روایت کیا۔ابن سبع نے کہا کہ آپ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نور تھے،جب آپ دھوپ اورچاندنی میں چلتے تو سایہ ظاہر نہ ہوتا۔اس کے گیر نے کہا اس کا شاہد نبی کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کا وہ قول ہے جو آپ دعا میں کہتے کہ اے الله ! مجھے نور بنادے۔(ت) |
اسی طرح سیرت شامی میں ہے:
|
وزاد عن الامام الحکیم قال معناہ لئلایطأعلیہ کافر فیکون |
یعنی امام ترمذی نے یہ اضافیہ کیا:اس میں حکمت یہ تھی کہ کوئی کافر سایہ اقدس پر پاؤں نہ رکھے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع