30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کما ھو مشاھد فی الانوار الحقیقۃ وھذا رواہ صاحب الوفاء عن ابن عباس رضی الله تعالٰی عنہ قال لم یکن لرسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ظل ولم یقم مع شمس الا غلب ضوؤہ ضوئھا ولا مع سراج الا غلب ضوؤہ ضوؤہ وقد تقدم ھٰذا والکلام علیہ و رباعیتھافیہ وھی: ؎ ماجر لظل احمد اذیال فی الارض کرامۃ کما قد قالوا ھذا عجب وکم بہ من عجب والناس بظلہ جمیعا قالوا''وقالواھذا من القیلولۃ وقد نظق القراٰن بانہ النورالبمین وکونہ بشرا لا ینافیہ کما توھم فان فھمت فھو نور علی نور فان النور ھو الظاھر بنفسہ المظھر لغیرہ وتفصیلہ فی مشکوٰۃ الانوار [1]انتھٰی۔
|
نہیں ہوتا جیسا کہ انوار حقیقت میں دیکھاجاتاہے۔اس کو صاحب وفاء نے ابن عباس رضی الله تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔آپ نے فرمایا کہ رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کا سایہ نہ تھا،نہ کھڑے ہوئے آپ کبھی سورج کے سامنے مگر آپ کا نور سورج پر غالب آگیا،اورنہ قیام فرمایا آپ نے چراغ کے سامنے مگر آپ کا نور چراغ کی روشنی پر غالب آگیا۔یہ اوراس پر کلام پہلے گزر چکا ہے اوراس سلسلہ میں رباعی جو کہ یہ ہے: حضرت امام الانبیاء احمد مجتبٰی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے سایہ اقدس نے آپ کی کرامت وفضیلت کی وجہ سے دامن زمین پر نہیں کھینچاجیسا کہ لوگوں نے کہا۔یہ کتنی عجیب بات ہے کہ عدم سایہ کے باوجود سب لوگ آپ کے سایہ رحمت میں آرام کرتے ہیں۔'' یہاں قالوا،قیلولہ سے مشتق ہے(نہ کہ قول سے)تحقیق قرآن عظیم ناطق ہے کہ آپ نور روشن ہیں اورآپ کا بشرہونا اس کے منافی نہیں جیسا کہ وہم کیا گیا۔اگر تو سمجھے توآپ نور علی نور ہیں،کیونکہ نور وہ ہے جو خود ظاہر ہوں اوردوسروں کو ظاہر کرنے والا ہو۔اس کی تفصیل مشکوۃ الانوار میں ہے۔(ت) |
حضرت مولوی معنوی قدس سرہ القوی دفتر پنجم مثنوی شریف میں فرماتے ہیں: ؎
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع