30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جب ملائکہ کہ حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے نور سے بنے،سایہ نہیں رکھتے توحضور کہ اصل نور ہیں جن کی ایك جھلك سے سب ملك بنے کیونکر سایہ سے منزہ نہ ہوں گے۔جب کہ ملائکہ مصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے نور سے بنے،بے سایہ ہوں، زاورمصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کہ نورالٰہی سے بنے،سایہ رکھیں۔
حدیث میں ہے کہ آسمانوں میں چا انگل جگہ نہیں جہاں کوئی فرشتہ اپنی پیشانی رکھے سجدہ میں نہ ہو،ملائکہ کے سایہ ہوتا تو آفتاب کی روشنی ہم تك کیونکر پہنچتی یا شاید پہنچتی تو ایسی جیسے گھنے پیڑ میں سے چھن کر خال خال بندکیاں نور کے سائے کے اندر نظر آتی ہیں،ملائکہ تو لطیف تر ہیں،نار کے لئے سایہ نہین بَلکہ ہوا کے لئے سایہ نہیں بَلکہ عالم نسیم کی ہوا کہ ہوائے بالا سے کثیف تر ہے اس کا بھی سایہ نہیں ورنہ روشنی کبھی نہ ہوتی بَلکہ ہوا میں ہزاروں لاکھوں ذرے اور قسم قسم کے جانور بھرے پڑے ہیں کہ خوردبین سے نظر آتے ہیں اوربعض بے خوردبین بھی،جبکہ دھوپ کسی بند مکان میں روزن سے داخل ہو ان میں کسی کے سایہ نہیں۔یہ سب تو قبول کرلیں گے مگر محمدرسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے تن اقدس کی ایسی لطافت کس دل سے گوارا ہوکہ حضور کے لئے سایہ نہ تھا۔جانے دو،یہاں ان ذروں کی باریکی جسم کا حیلہ لوگے،آسمان میں کیا کہوگے ؟اتنا بڑا جسم عظیم کہ تمام زمین کو محیط اوراس کا ایك ذرا سا ٹکڑا جس میں آفتاب ہے سارے کرہ زمین سے تین سو چھبیس حصے بڑا ہے،اسی کا سایہ دکھا دیجئے،اس کا سایہ پڑتا تو قیامت تك تمہیں دن کا منہ دیکھنا نصیب نہ ہوتا،ہاں ہاں یہی جو نیلگوں چھت ہمیں نظر آتی ہے،یہی پہلا آسمان ہے،قرآن عظیم یہی بتاتاہے:
|
قال تعالٰی "اَفَلَمْ یَنۡظُرُوۡۤا اِلَی السَّمَآءِ فَوْقَہُمْ کَیۡفَ بَنَیۡنٰہَا وَ زَیَّنّٰہَا وَ مَا لَہَا مِنۡ فُرُوۡجٍ ﴿۶﴾ "[1]۔ |
(الله تعالٰی نے فرمایا:)کیا نہیں دیکھتے اپنے اوپر آسمان کو،ہم نے اسے کیسے بنایا اور آراستہ کیا اوراس میں کہیں شگاف نہیں۔ |
اورفرماتاہے:"وَّ زَیَّنّٰہَا لِلنّٰظِرِیۡنَ ﴿ۙ۱۶﴾"[2]۔ہم نے آسمان کو دیکھنے والوں کے لئے آراستہ کیا۔
اوراگر فلاسفہ یونانی کی فضلہ خوری سے یہی مانئے کہ جو نظر آتاہے فلك نہیں،کرہ بخار ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع