30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فھو مرسل لکن روی ابن المبارك وابن الجوزی عن ابن عباس رضی الله تعالٰی عنھما لم یکن للنبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ظل ولم یقم مع الشمس قط الا غلب ضوء ضو ء السراج[1]۔ |
میں سے ہیں،لہذا یہ حدیث مرسل ہے۔لیکن ابن مبارك اورابن جوزی نے ابن عباس رضی الله تعالٰی عنہما سے روایت کیا کہ آپ کا سایہ نہ تھا آپ جب سورج کی روشنی یا چراغ کی روشنی میں قیام فرماتے تو آپ کی چمك سورج اورچراغ کی روشنی پر غالب آجاتی تھی۔(ت) |
فاضل محمد بن صبان اسعاف الراغبین میں ذکر خصائص نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم میں لکھتے ہیں:
وانہ لافیئ لہ [2]۔(بے شك آپ کا سایہ نہ تھا۔ت)
حضرت مولوی معنوی قدس سرہ الشریف فرماتے ہیں: ؎
چوں فنانش از فقر پیرایہ شود اومحمد دار بے سایہ شود[3]
(جب اس کی فنا فقر سے آراستہ ہوجاتی ہے تو وہ محمدصلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی طرح بغیر سایہ کے ہوجاتاہے۔ت)
ملك العلماء بحرالعلوم مولانا عبدالعلی قدس سرہ،اس کی شرح میں فرماتے ہیں:
|
در مصرع ثانی اشارہ بہ معجزہ آن سرورصلی الله تعالٰی علیہ وسلم است کہ آں سرور راسایہ نمی افتاد[4]۔ |
دوسرے مصرع میں سرورعالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اس معجزہ کی طرف اشارہ ہے کہ آپ کا سایہ زمین پر واقع نہیں ہوتا تھا۔ |
یہاں اس مسئلہ مسلمہ کے منکر وہابیہ ہیں اور اسمٰعیل دہلوی کے غلام اوراسمٰعیل کو غلامی حضرت مجدد کا ادعاء اورحضرت شیخ مجدد جلد ثالث مکتوبات،مکتوب صدم میں فرماتے ہیں:
|
اور را صلے الله تعالٰی علیہ وسلم سایہ نبود ودرعالم |
رسول انورصلی الله تعالٰی علیہ وسلم کا سایہ نہ تھا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع