30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۲)نفی الفیئ عمن اسننا ربنورہ کل شیء صلی الله علیہ وسلم۔
(۳)ھدی الحیران فی نفی الفیئی عن سید الاکوان علیہ الصلٰوۃ والسلام الاتمان الاکملان۔
یہاں جناب مجیب مصیب سلمہ القریب کی تائید میں بعض کلام ائمہ کرام علمائے اعلام کااضافہ کروں۔امام جلیل جلال الملۃ والدین سیوطی رحمہ الله تعالٰی خصائص الکبری شریف میں فرماتے ہیں:
|
باب الاٰیۃ فی انہ لم یکن یری لہ ظل،اخرج الحکیم الترمذی عن ذکوان ان رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لم یکن یرٰی لہ ظل فی شمس ولا قمر،قال ابن سبع من خصائصہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ان ظلہ کان لایقع علی الارض وانہ کان نورافکان اذ مشٰی فی الشمس اوالقمر لاینظر لہ ظل قال بعضھم و یشہد لہ حدیث،قولہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فی دعائہ واجعلنی نورًا [1]۔ |
اس نشانی کا بیان کہ حضور انور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کا سایہ نہیں دیکھاگیا۔حکیم ترمذی نے حضرت ذکوان سے روایت کی کہ سورج اورچاند کی روشنی میں رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کا سایہ نظر نہیں آتاتھا۔ابن سبع نے کہا:آپ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے خصائص میں سے یہ ہے کہ آپ کا سایہ زمین پر نہ پڑتا تھا کیونکہ آپ نور ہیں،آپ جب سورج اور چاندنی کی روشنی میں چلتے تو سایہ دکھانی نہیں دیتاتھا۔بعض نے کہا کہ اس کی شاہد وہ حدیث ہے جس میں آپ نے دعا فرماتے ہوئے ہوئے کہا:اے الله !مجھے نور بنادے۔(ت) |
موذج اللبیب فی خصائص الحبیب صلی الله تعالٰی علیہ وسلم میں فرماتے ہیں:
|
لم یقع ظلہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ولارئی لہ ظل فی شمس ولا قمر قال ابن سبع لانہ کان نورا،وقال رزین لغلبۃ انوارہ[2]۔ |
حضورانور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کا سایہ زمین پر نہیں پڑتاتھا۔ نہ ہی سورج اورچاند کی روشنی میں آپ کا سایہ دکھائی دیتاتھا۔ ابن سبع نے کہا آپ کے نور ہونے کی وجہ سے اوررزین نے کہا آپ کے انوارکے غلبہ کی وجہ سے۔(ت) |
امام ابن حجر مکی رحمہ الله تعالٰی افضل القرٰی لقراء ام القری زیر قول ماتن رضی الله تعالٰی عنہ ؎
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع