30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رابعًا:نورذاتی میں اگر ایك معنٰی معاذالله کفرہیں کہ ذاتی کو اصطلاح فن ایسا غوجی پر حمل کریں جو ہرگز قائلوں کی مراد نہیں بَلکہ غالبًا ان کو معلوم بھی نہ ہوگی تو نور ذات یا نور الله کہنے میں جن کا جواز از خود مانع کو مسلّم ہے عیاذًابالله متعدد وجہ پر معانی کفر ہیں۔
ہم نے فتوٰی دیگر میں بیان کیا کہ نور کے دو۲ معنی ہیں:ایك ظاہر بنفسہٖ مظہر لغیرہٖ،بایں معنٰی اگر اضافت بیانیہ لو تو نور رسالت عین ذات الٰہی ٹھہرے اوریہ کفر ہے۔اور اگر لامیہ لو تو یہ معنی ہوں گے کہ وہ نور کہ آپ بذاب خود ظاہر اورذات الٰہی کا ظاہر کرنے والا ہے،یہ بھی کفر ہے۔دوسرے معنی یہ کیفیت وعرض جسے چمک،جھلک،اجالا،روشنی کہتے ہیں اس معنٰی پر اضافت بیانیہ لو تو کفر عینیت کے علاوہ ایك اورکفر عرضیت عارض ہوگا کہ ذات الٰہی معاذالله ایك عرض وکیفیت قرار پائی،اوراگرالامیہ لو تو کسی کی روشنی کہنے سے غالبًا یہ مفہوم کہ یہ کیفیت اس کو عارض ہے جیسے نو رشمس ونور قمر ونور چراغ،یوں معاذالله الله عزوجل محل حوادث ٹھہرے گا،یہ بھی صریح ضلالت وگمراہی ومنجربہ کفرلزومی ہے،ایسے خیالات سے اگر نو رذاتی کہنا ایك درجہ ناجائز ہوگا تو نورذات ونور الله کہنا چاردرجے،حالانکہ ان کا جواز مانع کو مسلّم ہونے کے علاوہ نور الله تو خود قرآن عظیم میں وارد ہے:
|
"یُرِیۡدُوۡنَ لِیُطْفِـُٔوۡا نُوۡرَ اللہِ بِاَفْوٰہِہِمْ ؕ وَ اللہُ مُتِمُّ نُوۡرِہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوۡنَ ﴿۸﴾"[1]۔ " یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یُّطْفِـُٔوۡا نُوۡرَ اللہِ بِاَفْوٰہِہِمْ وَیَاۡبَی اللہُ اِلَّاۤ اَنۡ یُّتِمَّ نُوۡرَہٗ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوۡنَ ﴿۳۲﴾ "[2]۔ |
الله تعالٰی کے نور کو اپنی پھونکوں سے بچھانا چاہتے ہیں اورالله تعالٰی اپنے نور کو تام فرمانے والا ہے اگرچہ کافر ناپسند کریں۔ چاہتے ہیں کہ الله کا نور اپنے مونہوں سے بجھا دیں اور الله نہ مانے گا مگر اپنے نورکا پورا کرنا،پڑے برامانیں کافر۔(ت) |
حدیث میں ہے:
|
اتقوافراسۃ المؤمن فانہ ینظر بنور الله [3]۔ |
مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ نور الله سے دیکھتاہے۔ (ت) |
خامسًا:مضاف ومضاف الیہ میں اگر معائرت شرط ہے تو منسوب ومنسوب الیہ میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع