30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ذاتی علم سے کہتاہوں یعنی کسی کی سنی سنائی نہیں۔یہ مسجد میں نے اپنے ذاتی روپیہ سے بنائی ہے یعنی چندہ وغیرہ مال غیر سے نہیں۔ائمہ اہل سنت جن کا عقیدہ ہے کہ صفات الہیہ عین ذات نہیں،الله عزوجل کے علم وقدرت وسمع وبصر وارادہ وکلام وح یات کو اس کی صفت ذاتی کہتے ہیں۔حدیقہ ندیہ میں ہے:
|
اعلم بان الصفات التی ھی لاعین الذات ولا غیرھا انما ھی الصفات الذاتیۃ [1]الخ۔ |
بیشك وہ صفات جو الله تعالٰی کے نہ عین اورنہ غیر ہیں،صرف وہ ذاتی صفات ہیں۔(ت) |
علامہ سید شریف قدس سرہ الشریف رسالہ ''تعریفات''میں فرماتے ہیں:
|
الصفات الذاتیۃ ھی مایوصف الله تعالٰی بھا ولا یوصف بضدھا نحو القدرۃ والعزۃ والعظمۃ وغیرھا[2]۔ |
ذاتی صفات وہ ہیں جن سے الله تعالٰی موصوف ہے اوران کی ضد سے موصوف نہیں جیسے قدرت،عزت،عظمت وغیرہا۔ (ت) |
وجوب ذاتی وامتانع ذاتی وامکان ذاتی کا نام حکمت وکلام وفلسفہ وغیرہا میں سنا ہوگا یعنی ان الذات تقتجی لذاتھا الوجود او العدم (یعنی بلاشبہ ذات اپنی ذات کے اعتبارسے وجود یا عدم کا تقاضا کرتی ہے۔ت)اولًا ان میں کوئی بھی اپنے موصوف کا نہ عین ذات ہے نہ جزء بَلکہ مفہومات اعتبار یہ ہیں جن کےلئے خارج میں وجود نہیں کما حقق فی محلہ(جیسا کہ اس کے محل میں اس کی تحقیق کردی گئی ہے۔ت)یونہی اصلین اعنی علم کلام وعلم اصول فقہ میں افعل کے حسن ذاتی وقبح ذاتی کا مسئلہ اورا سمیں ہمارے آئمہ ماتریدیہ کا مذہب سنا ہوگا حالانکہ بداہۃً حسن وقبح نہ عین فعل ہیں نہ جزء فعل۔محقق علی الاطلاق تحریر الاصول میں فرماتے ہیں:
|
مما اتقفقت فیہ العراض والعادات واستحق بہ المدح والذم فی نظر العقول جمیعا لتعلق مصالح الکل بہ لا یفید بل ھو المراد بالذاتی للقطع بان مجرد حرکۃ الید قتلا ظلما لاتزید حقیقتہا علی حقیقتہا |
جس میں اغراض وعادات متفق ہوں اوراس کے سبب سے مدح وذم کا استحقاق ہوکیونکہ سب کے مصالح اس سے متعلق ہیں یہ قول غیر مفید ہے بَلکہ ذاتی سے مراد وہی ہے،اس لئے کہ یہ بات قطعی ہے کہ قتل کے لئے بطور ظلم محض حرکت یدکی حقیقت بطور عدل اس کی حرکت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع