30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مضاف ومضاف الیہ کے درمیان مغائرت شرط ہے۔چنانچہ بیت الله وناقۃ الله ونورالله وروح الله ،پس ثابت ہوا کہ نور رسول خدا صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نورمخلوق خدا یا نور ذات خدا یا نور جمال خدا ہے،نور ذاتی یعنی الله تعالٰی کی ذات کا ٹکڑا وجزو عین نہیں ہے،والله تعالٰی اعلم بالصواب۔
المشتہر:عبدالمہیمن قاضی علاقہ تھانہ بہوبازار وغیرہ کلکتہ
الجواب :
رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کا نور بلا شبہ الله عزوجل کے نورذاتی یعنی عین ذات الٰہی سے پیدا ہے جیسا کہ ہم نے پہلے فتوے میں تصریحات علمائے کرام سے محقق کیا اوراس کے معنی بھی وہیں مشرّح کردیے۔حاش لله ! یہ کسی مسلمان کا عقیدہ کیا گمان بھی نہیں ہوسکتا کہ نور رسالت یا کوئی چیز معاذالله ذات الٰہی کا جز یا اس کا عین ونفس ہے،ایسا اعتقاد ضرور کفر وارتداد۔
|
ای ادعاء الجزئیۃ مطلقًا والعینیۃ بمعنی الا تحاد ای ھو ھو فی مرتبۃ الفرق اما ان الوجود واحد والموجود واحد فی مرتبۃ الجمع والکل ظلالہ وکعوسہ فی مرتبۃ الفرق فلاموجود الا ھو فی مرتبۃ الحقیقۃ الذاتیۃ اذلاحظ لغیرہ فی حد ذاتہ من الجود اصلاجملۃ واحدۃ من دونہ ثنیا فحق واضح لاشك فیہ۔ |
یعنی جزئیت کا دعوٰی کرنا مطلقًا اورعینیت بمعنی اتحاد کا دعوٰی کرنا یعنی مربہ فرق میں نور محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم عین ذات خدا ہے(کفر ہے)لیکن یہ اعتقادکہ بے شك وجود ایك ہے اورموجود ایك ہے مرتبہ جمع میں اورتمام موجودات مربہ فرق میں اسی کے ظل اورعکس ہیں۔چنانچہ مرتبہ حقیقت ذاتیہ میں اس کے سوا کوئی موجود نہیں کیونکہ حد ذات میں اس کے ماسوا کسی کے لئے بغیر کسی استثناء کے بالکل وجود سے کوئی حصہ نہیں،(یہ اعتقاد)خالص حق ہے اس میں کوئی شك نہیں۔(ت) |
مگر نور رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کو الله عزوجل کا نور ذاتی کہنے سے نہ عین ذات یا جزء ذات ہونا لازم،نہ مسلمانوں پربد گمانی جائز،نہ عرف عام علماء وعوام میں اس سے یہ معنی مفہوم،نہ نورذات کہنے کو نورذاتی کہنے پر کچھ ترجیح جس سے وہ جائز اور یہ ناجائزہو۔
اولًا:ذاتی کی یہ اصطلاح کہ عین ذات یا جز ء ماہیت ہو،خاص ایسا غوجی کی اصطلاح ہے،علامء عامہ کے عرف عام میں نہ یہ معنے مراد ہوتے ہیں نہ ہرگز مفہوم،عام محاورہ میں کہتے ہیں یہ میں اپنے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع