30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
العیاشی وان معنی الانقسام زیادۃ نور علی ذٰلك النور المحمدی فیؤخذ ذٰلك الزائد ثم یزادعلیہ نوراٰخر ثم کذٰلك الی اٰخر الاقسام،قال العیاشی وھذا جواب مقنع بحسب الظاھر والمتحقیق والله تعالٰی اعلم وراء ذٰلك اھ [1] ثم ذکر مانقلنا عنہ اٰنفاوراأیتنی کتبت علی ھامش الزرقانی مانصہ۔ اقول:تبع فیہ شیخہ الشبرملسی الحق انہ لا معنی لہ فانہ اذن لایکون التخلیق من نورہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم وھو خلاف المنصوص والمراد[2]اھ۔
اقول:ویمکن الجواب بان المراد انہ تعالٰی کساہ شعاعا اکثرمما کان ثم فصل من شعاعہ شیئا فقسمہ کما تأخذہ الملٰئکۃ شیئا من الا شعۃ المحیطۃ بالکواکب فترمی بہ مسترقی السمع ویقال بذٰلك ان النجوم لھا رجوم ولٰکن منح المولٰی تعالٰی من ذٰلك |
علامہ عیاشی نے بیان کیا ہے کہ انقسام کا معنٰی نور محمدی اپر اضافے کے ہیں،پھر اس زائد کو لے لیا اس پر ایك دوسرے نور کا اضافہ کیا۔اسی طرح آخری تقسیم تك سلسلہ جاری رہا۔ عیاشی نے کہا کہ ظاہر کے لحاظ سے یہ جواب کافی ہے اورتحقیق اس کے علاوہ الله جانتاہے اھ۔پھر اس نے وہی ذکر کیا جو ابھی ہم نے اس سے نقل کیاہے۔مجھے یاد ہے کہ میں نے زرقانی پر حاشیہ لکھا جس کی نص یہ ہے۔ اقول:(میں(احمد رضا خاں)کہتاہوں)کہ اس(عیاشی)نے اس مسئلہ میں اپنے شیخ شبراملسی کی پیروی کی لیکن حق یہ ہے کہ یہ ایك بے معنٰی بات ہے کیونکہ اس صورت میں حضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے نور سے تخلیق نہ ہوگی،یہ نص اور مراد کے خلاف ہے۔ اقول:(میں کہتاہوں)اس کا جواب یہ بھی ممکن ہے کہ الله نے آپ کے نور کو پہلی شعاع سے زائد شعاع عطا کی پھر اس سے کچھ جدا کیا،پھر اس کی تقسیم کی جیسے فرشتے ان شعاعوں میں سے جو ستاروں کو محیط ہیں،لے کر چھپ کر سننے والے شیطانوں کو مارتے ہیں اس لئے کہا جاتاہے کہ نجوم کے لئے رجوم ہے۔اس روشن تقریر سے مولٰی تعالٰی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع