30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
توضیح صرف ان دوباتوں کی منظور ہے ایك یہ کہ دیکھو آفتاب سے تمام اشیاء منورہوئیں بے اسکے آفتاب خود آئینہ ہوگیا یا اس میں سے کچھ جدا ہوکر آئینہ بنا،دوسرے یہ کہ ایك آئینہ نفس ذات آفتاب سے بلاواسطہ روشن ہے باقی بوسائط،ورنہ حاشاکہاں مثال اورکہاں وہ بارگاہ جلال۔باقی اشیاء سے کہ مثال میں بالواسطہ منور مانیں آفتاب حجاب میں ہے اورالله عزوجل ظاہر فوق کل ظاہر ہے،آفتاب ان اشیاء تك اپنے وصول نور میں وسائط کا محتاج ہے اورالله عزوجل احتیاج سے پاک،غرض کسی بات میں نہ تطبیق مراد نہ ہرگز ممکن،حتی کہ نفس وساطت بھی یکساں نہیں،کما لایخفٰی وقد اشرنا الیہ(جیسا کہ پوشیدہ نہیں اورہم نے اس کی طرف اشارہ کردیاہے۔ت)
سید ی ابو سالم عبدالله عیاشی،ہم استاذ علامہ محمد زرقانی تلمیذ علامہ ابوالحسن شبراملسی اپنی کتاب"الرحلہ"پھر سید ی علامہ عشماوی رحمہم الله تعالٰی جمیعًا ''شرح صلاۃ''حضرت سیدی احمد بدوی کبیر رضی الله تعالٰی عنہ میں فرماتے ہیں:
|
انما یدرکہ علی حقیقتہ من عرف معنی قول تعالی: الله نور السمٰوٰت والارض وتحقیق ذٰلك علی ماینبغی لیس مما یدرك ببضاعۃ العقول ولا مما تسلط علیہ الاوھام وانما یدرك بکشف الٰھی واشراق حقہ من اشعۃ ذٰلك النور فی قلب العبد فیدرك نورالله بنورہ و اقرب تقریر یعطی القرب من فھم۔معنی الحدیث انہ لما کان النور المحمدی اول الانوار الحادثۃ التی تجلی بھا النور القدیم الازلی وھو اول التعینات للوجود المطلق الحقانی وھو مدد کل نور کائن اویکون وکما اشرق النور الاول فی حقیقتہ فتنورت بحیث صارت ھو نورا اشرق نورہ المحمدی علی حقائق الموجودات شیئا |
اس کا ادراك حقیقۃً وہی شخص کرسکتاہے جو الله تعالٰی کے ارشاد الله نورالسمٰوٰت والارض کا معنی جانتاہے کیونکہ وہم او رعقل کے ذرائع اس کا حقیقی ادراك نہیں کرسکتے،اس کو توصرف بندے کے دل میں اس نور کو الله تعالٰی کی عطاکردہ شعاؤں سے ہی سمجھا جاسکتاہے،پس ''نورالله ''کو اس نور ہی کے ذریعے سے سمجھا جاسکتاہے۔حدیث کے معنٰی کو سمجھنے کے لئے قریب ترین یہ ہے کہ نو رمحمدی جب قدیم اورازلی نور کی پہلی تجلی ہے تو کائنات میں بھی الله تعالٰی کے وجود کا وہی سب سے پہلا مظہر ہے اوروجود میں آنے والے تمام نوروں کی اصل قوت ہے۔جب یہ نو راول چمکا اورمنور ہوا تو اس نور محمدی نے تمام موجودات پر درجہ بدرجہ اپنی چمك ڈالی تو بلا واسطہ یا واسطوں کی کمی بیشی کے اعتبار سے ہر چیز اپنی استعداد کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع