30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بخلاف ہمارے حضور عین النور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے کہ وہ کسی کے طفیل میں نہیں،اپنے رب کے سوا کسی کے واسطے نہیں تو وہ ذات الٰہی سے بلاواسطہ پیدا ہیں۔زرقانی شریف میں ہے:
|
ای من نورھو ذاتہ لابمعنی انھا مادۃ خلق نورہ منہا بل بمعنی تعلق الارادۃ بہ بلاواسطۃ شیئ فی وجودہ[1]۔ |
یعنی اس نور سے جو الله کی ذات ہے،یہ مقصد نہیں کہ وہ کوئی مادہ ہے جس سے آپ کا نور پیدا ہوا بَلکہ مقصد یہ ہے کہ الله تعالٰی کا ارادہ آپ کے نورسے بلا کسی واسطہ فی الوجود کے متعلق ہوا۔(ت) |
یا زیادہ سے زیادہ بغرض توضیح ایك کمال ناقص مثال یوں خیال کیجئے کہ آفتاب نے ایك عظیم وجمیل وجلیل آئینہ پر تجلی کی، آئینہ چمك اٹھا اور اس کے نور سے اورآئینے اورپانیوں کے چشمے اورہوائیں اورسائے روشن ہوئے آئینوں اورچشموں میں صرف ظہور نہیں بَلکہ اپنی اپنی استعداد کے لائق شعاع بھی پیداہوئی کہ اورچیز کو روشن کر سکے کچھ دیواروں پر دھوپ پڑی،یہ کیفیتی نور سے متکیف ہیں اگرچہ اورکوروشن نہ کریں جن تك دھوپ بھی نہ پہنچی،وہ ہوائے متوسط نے ظاہرکیں جیسے دن میں مسقّف دالان کی اندرونی دیواریں ان کا حصہ صرف اسی قدر ہوا کہ،کیفیت نور سے بہر نہ پایا،پہلا آئینہ خود ذات آفتاب سے بلاواسطہ روشن ہے اورباقی آئینے چشمے اس کے واسطے سے اوردیواریں وغیرہا واسطہ درواسطہ پھر جس طرح وہ نور کہ آئینہ اول پر پڑا بعینہٖ آفتاب کا نور ہے بغیر اس کے آفتاب خود یا اس کا کوئی حصہ آئینہ ہوگیا ہو،یونہی باقی آئینے اور چشمے کہ اس آئینے سے روشن ہوئے اوردیوار وغیرہ اشیاء پر ان کی دھوپ پڑی یا صرف ظاہر ہوئیں،ان سب پر بھی یقیناآفتاب ہی کا نور اور اسی سے ظہور ہے،آئینے اورچشمے فقط واسطہ وصول ہیں،ان کی حد زات میں دیکھو تو یہ خود نور تو نور،ظہور سے بھی حصہ نہیں رکھتے ؎
یك چراغ ست دریں خانہ کہ از پر توآں ہرکجا می نگری انجمنے ساختہ اند
(اس گھرمیں ایك چراغ سے جس کی تابش سے تو جہاں دیکھتا ہے انجمن بنائے ہوئے ہیں)
یہ نظر محض ایك طرح کی تقریب فہم کے لئے ہے جس طرح ارشاد ہوا:" مَثَلُ نُوۡرِہٖ کَمِشْکٰوۃٍ فِیۡہَا مِصْبَاحٌ ؕ"[2]۔(اس کے نور کے مثال ایسے ہے جیسے ایك طاق کہ اس میں چراغ ہے۔ت) ورنہ کجا چراغ اورکجاوہ نور حقیقی،" وَ لِلہِ الْمَثَلُ الۡاَعْلٰی ؕ"[3] (اور الله کی شان سب سے بُلند ہے۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع