30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس تخلیق کے اصل معنی تو الله ورسول جانیں،جل وعلا و صلی الله تعالٰی علیہ وسلم عالم میں ذات رسول کو تو کوئی پہچانتا نہیں۔ حدیث میں ہے:
|
یا ابابکر لم یعرفنی حقیقۃ غیر ربی [1]۔ |
اے ابوبکر!مجھ جیسا میں حقیقت میں ہوں میرے رب کے سوا کسی نے نہ جانا۔ |
ذات الٰہی سے اس کے پیداہونے کے حقیقت کسے مفہوم ہومگر اس میں فہم ظاہر بیں کا جنتا حصہ ہے وہ یہ ہے کہ حضر ت حق عزجلالہ،نے تمام جہان کو حضور پرنورمحبوب اکرم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے واسطے پیدا فرمایا،حضور نہ ہوتے تو کچھ نہ ہوتا۔
|
لولاك لما خلقت الدنیا[2]۔ |
اگر آپ نہ ہوتے تو میں دنیا کو نہ بناتا۔(ت) |
آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام سے ارشادہوا:
|
لولا محمد ماخلقتك ولا ارضا ولا سماء [3]۔ |
اگر محمد نہ ہوتے تو میں نہ تمہیں بناتا نہ زمین وآسمان کو۔(ت) |
توساراجہان ذات الٰہی سے بواسطہ حضور صاحب لولاك صلی الله تعالٰی علیہ وسلم پیدا ہوا یعنی حضور کے واسطے حضور کے صدقے حضور کے طفیل میں۔
|
لا انہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم استفاض الوجود من حضرۃ العزۃ ثم ھو افاض الوجود علی سائر البریۃ کما تزعم کفرۃ الفلاسفۃ من توسیط العقول،تعالٰی الله عما یقول الظالمون علواکبیر ا،ھل من خلاق غیر الله ۔ |
یہ بات نہیں کہ حضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے الله سے جود حاصل کیا پھر باقی مخلوق کو آپ نے وجود دیا جیسے فلاسفہ کافر گمان کرتے ہیں کہ عقول کے واسطے دوسری چیزیں پیدا ہوتی ہیں،الله تعالٰی ان ظالموں کے اس قول سے بُلند وبالا ہے، کیا الله تعالٰی کے علاوہ بھی کوئی خالق ہوسکتاہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع