30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تقریر عنقریب آرہی ہے۔ت)امام احمد قسطلانی مواہب شریف میں فرماتے ہیں:
|
لما تعلقت ارادۃ الحق تعالٰی بایجاد خلقہ ابرز الحقیقۃ المحمدیۃ من الانوار الصمدیۃ فی الحضرۃ الاحدیۃ ثم سلخ منہا العوالم کلہا علوھا وسفلھا[1]۔ |
یعنی جب الله عزوجل نے مخلوقات کو پیدا کرنا چاہا صمدی نوروں سے مرتبہ ذات صرف میں حقیقت محمدیہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کو ظاہر فرمایا،پھر اس سے تما م علوی وسفلی نکالے۔ |
شرح علامہ میں ہے:
|
والحضرۃ الاحدیۃ ھی اول تعینات الذات واول رتبہا الذی لااعتبارفیہ لغیر الذات کما ھو المشار الیہ بقولہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کان الله ولا شیئ معہ ذکرہ الکاشی[2]۔ |
یعنی مرتبہ احدیت ذات کا پہلا تعین اورپہلا مرتبہ ہے جس میں غیر ذات کا اصلًا لحاظ نہیں جس کی طرف نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اس ارشاد میں اشارہ ہے کہ الله تعالٰی تھا اوراس کے ساتھ کچھ نہ تھا،اسے سیدی کاشی قدس سرہ نے ذکر فرمایا۔ |
شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی،مدارج النبوۃ میں فرماتے ہیں:
|
انبیاء مخلوق انداز اسمائے ذاتیہ حق واولیاء از اسمائے صفاتیہ وبقیہ کائنات از صفات فعلیہ وسید رسل مخلو ق است از ذات حق و ظہور حق دروے بالذات است[3]۔ |
انبیاء الله کے اسماء ذاتیہ سے پیداہوائے اوراولیاء اسمائے صفاتیہ سے،بقیہ کائنات صفات فعلیہ سے،اورسید رسل ذات حق سے،اور حق کا ظہور آپ میں بالذات ہے۔(ت) |
ہاں عین ذات الٰہی سے پیدا ہونے کے یہ معنی نہیں کہ معاذالله ذات الٰہی ذات رسالت کیلئے مادہ ہے جیسے مٹی سے انسان پیداہو،یا عیاذًا بالله ذات الٰہی کا کوئی حصہ یا کل،ذات نبی ہوگیا۔الله عزوجل حصے اورٹکڑے اورکسی کے ساتھ متحد ہوجانے یا کسی شئے میں حلول فرماتے سے پاك ومنزہ ہے۔حضو رسید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم خواہ کسی شے جزء ذات الٰہی خواہ کسی مخلوق کو عین ونفس ذات الٰہی ماننا کفر ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع