30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کی شرح میں اس پر تنبیہ کی گئی ہے۔ت)نور بایں معنٰی ایك عرض وحادث ہے اوررب عزوجل اس سے منزہ۔محققین کے نزدیك نوروہ کہ خود ظاہر ہو اوردوسروں کا مظہر،کما ذکرہ الامام حجۃ الاسلام الغزالی الی ثم العلامۃ الزرقانی فی شرح المواھب الشریفۃ(جیسا کہ حجۃ الاسلام امام غزالی نے پھر شرح مواہب شریف میں علامہ زرقانی نے ذکر فرمایا ہے۔ت)بایں معنی الله عزوجل نور حقیقی ہے بَلکہ حقیقۃً وہی نور ہے اورآیہ کریمہ "اَللہُ نُوۡرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ"[1](الله تعالٰی نور ہے آسمانوں اورزمین کا۔ت)بلاتکلف وبلادلیل اپنے معنی حقیقی پر ہے۔
|
فان الله عزوجل ھو الظاھر بنفسہ المظھر لغیرہ من السمٰوٰت والارض ومن فیھن وسائر المخلوقات۔ |
کیونکہ الله عزوجل بلاشبہ خود ظاہر ہے او راپنے غیر یعنی آسمانوں،زمینوں،ان کے اندر پائی جانے والی تمام اشیاء اور دیگر مخلوقات کو ظاہر کرنے والا ہے۔(ت) |
حضور پرنورسید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بلاشبہ الله عزوجل کے نور ذاتی سے پیداہیں۔حدیث شریف میں وارد ہے:
|
ان الله تعالٰی قد خلق قبل الاشیاء نور نبیك من نورہٖ۔رواہ عبدالرزاق [2]ونحوہ عندالبیہقی۔ |
اے جابر!بیشك الله تعالٰی نے تمام اشیاء سے پہلے تیرے نبی کا نور اپنے نور سے پیدا فرمایا۔(اس کو عبدالرزاق نے روایت کیا اوربیہقی کے نزدیك اس کے ہم معنٰی ہے۔ت) |
حدیث میں "نورہ"فرمایا جس کی ضمیر الله کی طرف ہے کہ اسم ذات ہے من نور جمالہ یا نور علمہ یا نور رحمتہ(اپنے جمال کے نور سے یا اپنے علم کے نور سے یا اپنی رحمت کے نور سے۔ت)وغیرہ نہ فرمایا کہ نور صفات سے تخلیق ہو۔علامہ زرقانی رحمہ الله تعالٰی اسی حدیث کے تحت میں فرماتے ہیں:(من نورہٖ)ای من نورھوذاتہ[3]یعنی الله عزوجل نے نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم جو اس نور سے پیدا کیا جو عین ذات الٰہی ہے،یعنی اپنی ذات سے بلاواسطہ پیدا فرمایا،کما سیأتی تقریرہ(جیسا کہ اس کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع