30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں حضرت سیدنا جابر بن عبدالله رضی الله تعالٰی عنہما سے روایت کیا حضور پرنور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:
|
یاجابر ان الله خلق قبل الاشیاء نور نبیك من نورہ۔ ذکرہ الامام القسطلانی فی المواھب[1] وغیرہ من العلماء الکرام۔ |
اے جابر!بیشك الله تعالٰی نے تمام عالم سے پہلے تیرے نبی کا نور اپنے نور سے پیدا فرمایا۔(امام قسطلانی نے اس کو مواہب لدنیہ میں اور دیگر علماء کرام نے ذکر کیا ہے۔ت) |
عمرو کا قول سخت باطل وشنیع وگمراہی فظیع بَلکہ سخت ترامر کی طرف منجّر ہے،الله عزوجل اس سے پاك ہے کہ کوئی چیز اس کی ذات سے جدا ہوکر مخلوق بنے،اورقول زید میں لفظ ''بشرط صحت''بوئے انکار دیتاہے،یہ جہالت ہے،باجماع علماء دربارئہ فضائل صحت مصطلحہ محدثین کی حاجت نہیں،مع ہذا علامہ عارف بلالہ سید عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی نے اس حدیث کی تصحیح فرمائی۔علاوہ بریں یہ معنٰی قدیمًا وحدیثًا تصانیف وکلمات ائمہ وعلماء واولیاء وعرفاء میں مذکور ومشہور وملقّٰی بالقبول رہنے پر خود صحت حدیث کی دلیل کافی ہے،
|
فان الحدیث یتقوی بتلقی الائمۃ بالقبول کما اشار الیہ الامام الترمذی فی جامعہ وصرح بہ علماؤنا فی الاصول۔ |
اس لئے کہ حدیث علماء کی طرف سے تلقی بالقبول پاکر قوی ہوجاتی ہے جیسا کہ امام ترمذی نے اپنی جامع میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے،اورہمارے علماء نے اصول میں اس کی تصریح فرمائی ہے۔(ت) |
ہاں اسے باعتبار کنہ کیفیت متشابہات سے کہنا وجہ صحت رکھتاہے،واقعہ نہ رب العزت جل وعلی نہ اسکے رسول اکرم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے ہمیں بتایا کہ الله تعالٰی نے اپنے نور سے نورمطہر سید انور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کیونکر بنایا،نہ بے بتائے اس کی پوری حقیقت ہمیں خود معلوم ہوسکتی ہے،اوریہی معنٰی متشابہات ہیں۔
بکر نے جوکہا وہ دفع خیال ضلال عمر و کے لئے کافی ہے،شمع سے شمع روشن ہوجاتی ہے بے اس کے کہ اس شمع سے کوئی حصہ جدا ہوکر یہ شمع بنے اس سے بہتر آفتاب اوردھوپ کی مثال ہے کہ نور شمس نے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع