30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں ہے:
|
لایضرذٰلك فی الاستدلال بہ ھٰھنا لان المقطع یعمل بہ فی الفضائل اجماعا[1]۔ |
اس سے استدلال کرنا یہاں مضر نہیں کیونکہ فضائل میں منقطع بالاجماع قابل عمل ہے۔(ت) |
شفائے امام قاضی عیاض میں ہے:
|
اخبر صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لقتل علی وانہ قسیم النار[2]۔ |
رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے حضرت علی رضی الله تعالٰی عنہ کے قتل کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرمایا کہ بیشك وہ قسیم النار ہیں۔(ت) |
نسیم الریاض میں فرمایا:
|
ظاھر ھذان ھذا مما اخبربہ النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم الا انھم قالوا لم یروہ احدمن المحدثین الا ان ابن الاثیر قال فی النہایۃ الا ان علیا رضی الله تعالٰی عنہ قال انا قسیم النار قلت ابن الاثیر ثقۃ وما ذکرہ علی لایقال من قبل الرائ فھو فی حکم المرفوع [3]اھ ملخصًا۔ |
ظاہر اس کا یہ ہےکہ بیشك یہ ان امور میں سے ہے جن کے بارے میں نبی کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے خبر دی مگر انہوں نےکہاکہ اس کو محدثین میں سے کسی نے روایت نہیں کیا مگر ابن اثیر نے نہایہ میں کہا:بیشك حضرت علی مرتضٰی رضی الله تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ میں قسیم نار ہوں۔ میں کہتاہوں کہ ابن اثیر ثقہ ہے اورجو کچھ سیدنا علی المرتضٰی رضی الله تعالٰی عنہ نے ذکر فرمایا وہ قیاس سے نہیں کہا جاسکتا لہذ ا وہ مرفوع کے حکم میں ہے اھ تلخیص(ت) |
امام ابن الہمام فتح القدیر میں فرماتے ہیں:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع