30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تاعرصہ وجوب کہ اقتضائے عالم ست کابخانہ جاست ونے جہت ونے نشاں نہ نام[1] |
صحرائے وجوب تك جو عالم کا آخری کنارہ ہے کہ وہاں نہ مکان ہے نہ جہت،نہ نشان اورنہ نام۔(ت) |
نیز اسی کے باب رؤیۃ الله تعالٰی فصل سوم زیر حدیث قد راٰی ربہ مرتین(تحقیق آپ نے اپنے رب کو دوبارہ یکھا۔ت)ارشاد فرمایا:
|
بتحقیق دیدآنحضرت صلی الله تعالٰی علیہ وسلم پروردگارخود را جل وعلا دوبار،یکے چوں نزدیك سدرۃ المنتہٰی بود،دوم چوں بالائے عرش برآمد[2]۔ |
تحقیق آنحضرت صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے اپنے پروردگار جل وعلاکو دوباردیکھا،ایك بار جب آپ سدرہ کے قریب تھے، اوردوسری بار جب آپ عرش پرجلوہ گرہوئے۔(ت) |
مکتوبات حضرت شیخ مجدد الف ثانی جلد اول،مکتوب ۲۸۳میں ہے:
|
آں سرورعلیہ الصلٰوۃ والسلام دراں شب چوں از دائرہ مکان و زمان بریون جست وازتنگی امکان برآمد ازل وابدراں آں واحد یافت وبدایت ونہایت رادریك نطقہ متحد دید[3]۔ |
اس رات سرکار دوعالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم مکان وزمان کے دائرہ سے باہر ہوگئے،اور تنگی امکان سے نکل کر آپ نے ازل وابد کو ایك پایا اورابتداء کو انتہا کو ایك نقطہ میں متحد دیکھا۔(ت) |
نیز مکتوب ۲۷۲میں ہے:
|
محمدرسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کہ محبوب رب العالمین ست وبہترین موجودات اولین وآخرین باوجودآنکہ بدولت معراج بدنی مشرف شد واز عرش وکرسی درگزشت وازامکان و زمان بالارفت[4]۔ |
محمدرسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم جو کہ رب العالمین کے محبوب ہیں اور تمام موجودات اولین وآخرین سے افضل ہیں، جسمانی معراج سے مشرف ہوئے اورعرش وکرسی سے آگے گزر گئے اورمکان وزمان سے اوپر چلے گئے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع